خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 507 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 507

$2004 507 خطبات مسرور کرنے کی کوشش کرنی ہے۔کیونکہ ہمیں اللہ تعالیٰ کا بڑا واضح حکم ہے کہ تم اس رسول صلی اللہ علیہ وسلم، جو میرا پیارا رسول ہے، اس کے اُسوہ حسنہ پر چلو۔اور آپ نے ہمیں فرمایا کہ اگر میری پیروی کرنے والے شمار ہونا ہے تو ہمیشہ تمہارے منہ سے عزیزوں، رشتہ داروں ، قریبیوں تعلق داروں اور ہر ایک کے بارے میں خیر کے کلمات نکلنے چاہئیں۔پھر پڑوسی کے ساتھ بھی عزت اور احترام کا سلوک ہے۔صحابہؓ کہتے ہیں کہ بعض دفعہ ہمیں شک پڑتا تھا کہ جس طرح پڑوسی کے حقوق کے متعلق اللہ تعالیٰ کے احکامات ہیں اور ہمیں بتایا جاتا ہے کہ کہیں وہ ہمارے وارث ہی نہ ٹھہر جائیں، وراثت میں بھی ان کا حصہ نہ ہو۔پھر اس میں مہمان کا احترام کرنا بھی بتایا ہے اور پھر جو مہمان ہیں وہ تو تمہارے قریب آ کر جب ساتھ رہنے لگ گئے تو ہمسائے بھی بن گئے اس لئے مہمان کا تو دوہرا حق ہو گیا کہ ایک مہمان اور دوسرے جب تک یہاں ہیں تمہارے ہمسائے بھی ہیں۔اور ان کے بارے میں تمہارے منہ سے کوئی بھی ایسی بات نہیں نکلنی چاہئے جو ان لوگوں کی دل آزاری کا باعث بنے، کسی تکلیف کا باعث بنے۔ایک روایت میں آتا ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جو وفود آتے تھے آپ ان کی مہمان نوازی کا فرض صحابہ کے سپرد کر دیتے۔ایک مرتبہ قبیلہ عبدالقیس کے مسلمانوں کا وفد حاضر ہوا تو آپ نے انصار کو ان کی مہمان نوازی کا ارشاد فرمایا۔چنانچہ انصار ان لوگوں کو لے گئے۔صبح کے وقت وہ لوگ حاضر ہوئے تو آپ نے دریافت فرمایا کہ تمہارے میز بانوں نے تمہاری مدارات کیسی کی۔انہوں نے کہا یا رسول اللہ ! بڑے اچھے لوگ ہیں ہمارے لئے نرم بستر بچھائے ، عمدہ کھانے کھلائے اور پھر رات بھر کتاب وسنت کی تعلیم دیتے رہے۔(مسند احمد بن حنبل جلد (3 صفحه (431 الحمد للہ کہ ہمارے ہاں جماعت میں بھی یہ نظارے دیکھنے میں آتے ہیں اور یہ محض اور محض اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ اس نے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کو ماننے کی وجہ سے یہ اعلیٰ معیار قائم کرنے کی توفیق عطا فرمائی۔ربوہ میں بھی ہم نے یہی دیکھا بلکہ خود بھی اسی طرح کرتے رہے کہ