خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 491 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 491

$2004 491 خطبات مسرور ہوتے ہیں۔اللہ تعالیٰ ہر احمدی کو اس سے بچائے۔حضرت ابو موسیٰ اشعری بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا نیک ساتھی اور برے ساتھی کی مثال ان دو شخصوں کی طرح ہے جن میں سے ایک کستوری اٹھائے ہوئے ہو اور دوسرا بھٹی جھونکنے والا ہو۔کستوری اٹھانے والا تجھے مفت خوشبو دے گا یا تو اس سے خرید لے گا۔ورنہ کم از کم تو اس کی خوشبو اور مہک تو سونگھ ہی لے گا۔اور بھٹی جھونکنے والا یا تو تیرے کپڑے جلا دے گا یا اس کا بد بودار دھواں تجھے تنگ کرے گا۔(صحيح مسلم كتاب البر والصلة باب استحباب مجالسة الصالحين یہ بھی ان مجالس کے ضمن میں ہے کہ ہمیشہ ایسی مجالس میں بیٹھنا اور اٹھنا چاہئے جہاں سے نیکی کی باتیں پتہ لگیں۔تقویٰ کی باتیں پتہ لگیں، اللہ اور رسول کے احکامات کا علم ہو۔اگر اپنی اصلاح کرنی ہے اور اپنی زندگی سنوارنا چاہتے ہیں اور دینی علم حاصل کرنا چاہتے ہیں تو ہمیشہ جیسا کہ حدیث میں آیا اپنی صحبت نیک لوگوں میں رکھنی چاہئے اور ایسی مجالس کی تلاش میں رہنا چاہئے۔اس بات کو ایک حدیث میں یوں بھی بیان فرمایا ہے۔آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں کہ تم مومن کے سوا کسی اور کے ساتھ نہ بیٹھو۔اور متقی آدمی کے سوا اور کوئی تمہارا کھانا نہ کھائے۔ترغيب والترهيب بحواله صحيح ابن حبان بعض کمزور طبیعتیں بعض کا اثر جلدی لے لیتی ہیں۔بجائے اثر انداز ہونے کے۔اس لئے ایسے لوگوں کو بہر حال ایسی دوستیوں اور ایسی مجلسوں سے پر ہیز کرنا چاہئے۔ہمیشہ یہی کوشش ہونی چاہئے کہ تقویٰ پر قائم رہنے والوں کا، نیکی پر قائم رہنے والے لوگوں کا آنا جانا ہواور جس حد تک بھی ان بری صحبتوں سے بچا جا سکے بچنا چاہئے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں : ”جب انسان ایک راستباز اور صادق کے پاس بیٹھتا ہے تو صدق اس میں کام کرتا ہے لیکن جو راستبازوں کی صحبت کو چھوڑ کر بدوں اور شریروں کی صحبت کو اختیار کرتا ہے تو ان میں بدی اثر کر جاتی ہے۔اسی لئے احادیث اور قرآن شریف