خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 471
471 $2004 خطبات مسرور جائے اور جب دل مردہ ہوتا ہے تو انسان اللہ تعالیٰ سے دور ہٹتا چلا جاتا ہے اور شیطان کے قریب ہوتا چلا جاتا ہے۔پھر وہی بات کہ اچھے برے کی تمیز ہی نہیں رہتی، اور یوں پھر انسان شیطان کے قبضے میں چلا جاتا ہے۔حضرت نعمان بن بشیر سے ایک روایت ہے۔آپ بیان کرتے ہیں کہ میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ : " حرام اور حلال اشیاء واضح ہیں اور ان کے درمیان کچھ مشتبہ امور ہیں جن کو اکثر لوگ نہیں جانتے۔پس جو لوگ مشتہیہات سے بچتے رہتے ہیں وہ اپنے دین کو اور اپنی آبرو کو محفوظ کر لیتے ہیں۔اور جو شخص شبہات میں گرفتار رہتا ہے بہت ممکن ہے کہ وہ حرام میں جا پھنسے یا کسی جرم کا ارتکاب کر بیٹھے۔ایسے شخص کی مثال بالکل اس چرواہے کی سی ہے جو ممنوعہ علاقے کے قریب قریب اپنے جانور چراتا ہے۔بالکل ممکن ہے کہ اس کے جانور اس علاقے میں گھس جائیں۔دیکھو ہر بادشاہ کا ایک محفوظ علاقہ ہوتا ہے جس میں کسی کو جانے کی اجازت نہیں ہوتی۔یاد رکھو اللہ تعالیٰ کا محفوظ علاقہ اس کے محارم ہیں۔یہاں بھی اب دیکھ لیں کہ بعض علاقے گورنمنٹس نے بنائے ہوتے ہیں، بعض جانوروں کے لئے بھی رکھے ہوتے ہیں،Sanctury بنائی ہوتی ہیں۔سنو! انسان کے جسم میں ایک گوشت کا ٹکڑا ہے جب تک وہ تندرست اور ٹھیک رہے تو سارا جسم تندرست اور ٹھیک رہتا ہے اور جب وہ خراب اور بیمار ہو جائے تو سارا جسم بیمار اور لا چار ہو جاتا ہے اور اچھی طرح یا درکھو کہ یہ گوشت کا ٹکڑا انسان کا دل ہے“۔(بخاری کتاب الایمان،باب فضل استبرأ لدينهـ مسلم كتاب البيوع باب اخذالحلال) تو یا درکھیں کہ جو چیزیں اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دی ہیں حدیث میں بڑا واضح طور پر بیان کر دیا کہ ان سے بچتے رہیں تو اللہ تعالیٰ کا قرب پانے والے اور اس کے فضلوں کو سمیٹنے والے ہوں گے۔اس لئے ایسے موقعے پر ہمیشہ یہی یا درکھنا چاہئے کہ اس میں دل سے ضرور فتویٰ لے لیا کریں۔کیونکہ اگر ایمان کی تھوڑی سی بھی رمق ہے، تھوڑا سا بھی دل میں ایمان ہے تو دل میں ایک بے چینی پیدا