خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 470 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 470

$2004 470 مسرور ایک روایت میں آتا ہے، حضرت ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بار ان کو مخاطب کر کے فرمایا: اے ابو ہریرہ ! تقویٰ اور پرہیز گاری اختیار کر ، تو سب سے بڑا عبادت گزار بن جائے گا۔قناعت اختیار کر، تو سب سے بڑا شکر گزارشمار ہو گا۔جو اپنے لئے پسند کرتے ہو وہی دوسروں کے لئے پسند کرو تو صحیح مومن سمجھے جاؤ گے۔جو تیرے پڑوس میں بستا ہے اس سے اچھے پڑوسیوں والا سلوک کرو تو بچے اور حقیقی مسلم کہلا سکو گے۔کم ہنسا کرو کیونکہ بہت زیادہ قہقہے لگا کر ہنسنا دل کو مردہ بنا دیتا ہے۔(سنن ابن ماجه كتاب الزهد باب الورع والتقوى) تو فرمایا کہ پر ہیز گاری اختیار کرو، اللہ سے ڈرو، اس کا خوف کرو اور اس کی اطاعت کرتے ہوئے عمل کرو۔شیطان کے بہکاوے میں نہ آؤ۔قناعت اختیار کرو،اگر قناعت ہوگی تو تھوڑے پر بھی انسان راضی ہو جاتا ہے۔یہ نہیں کہ زیادہ کمانے کے شوق میں ناجائز ذرائع سے بھی کمانے لگ جاؤ۔جس کی شریعت تمہیں اجازت نہیں دیتی وہ کام بھی تم کرنے لگ جاؤ۔اور شکر گزاری بھی اسی میں ہے که قناعت کرو۔اور شکر گزاروں سے اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ اگر صحیح طور پر شکر کرو گے تو تمہیں میں اور زیادہ دوں گا۔تو اس وعدے کے تحت اللہ تعالیٰ کہتا ہے کہ شکر کرو میں تمہارے اموال میں بھی برکت دوں گا، تمہاری نسلوں میں بھی برکت دوں گا۔اس لئے یہ وہم دل میں نہ لاؤ کہ یہ کاروبار ہم نے نہ کئے تو بھوکے مر جائیں گے خدانخواستہ۔اللہ کی خاطر کوئی کام کرو اور اس پر شکر کرو گے تو اور زیادہ ملے گا۔اور پھر صحیح مومن کی نشانی یہ ہے کہ جو اپنے لئے پسند کرتے ہو وہ دوسروں کے لئے بھی پسند کرو۔تو آپ خود تو یہ کہتے ہیں کہ ہم سور کا گوشت نہیں کھاتے ، اس لئے نہیں کھاتے کہ اس میں فلاں فلاں ایسی باتیں ہیں جو انسان کے اخلاق پر اثر انداز ہوتی ہیں، یہ یہ نقص ہیں۔لیکن دوسروں کو کھلانے کے لئے تیار ہیں۔تو یہ تو مومنوں والی بات نہیں ہے۔اور پھر آگے بتایا کہ پڑوسیوں سے نیک سلوک کرو اور آخر میں یہ کہ دنیا کی کھیل کود کی محفلوں میں اتنے نہ گم ہو جاؤ کہ خدا ہی یاد نہ رہے اور دل مردہ ہو