خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 453 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 453

453 $2004 خطبات مسرور نے ان سے مجھے اولاد بھی عطا کی۔انہوں نے اس وقت میری تصدیق کی جب لوگوں نے مجھے جھٹلایا۔(مسند احمد بن حنبل جلد نمبر ٦ صفحه ۱۱۸ مطبوعه بيروت تو یہ ہے اسوہ حسنہ ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا۔لیکن مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے اور ایسے معاملات سن کر بڑی تکلیف ہوتی ہے، طبیعت بعض دفعہ بے چین ہو جاتی ہے کہ ہم میں سے بعض کس طرف چل پڑے ہیں۔بیوی کی ساری قربانیاں بھول جاتے ہیں حتی کہ بعض تو اس حد تک کمینگی پر آتے ہیں کہ بیوی سے رقم لے کر اس پر دباؤ ڈال کر اس کے ماں باپ سے رقم وصول کر کے کاروبار کرتے ہیں یا ز بر دستی بیوی کے پیسوں سے خریدے ہوئے مکان میں اپنا حصہ ڈال لیتے ہیں اور پھر اس کو مستقل دھمکیاں ہوتی ہیں۔اور بعض دفعہ تو حیرت ہوتی ہے کہ اچھے بھلے شریف خاندانوں کے لڑکے بھی ایسی حرکتیں کر رہے ہوتے ہیں۔ایسے لوگ کچھ خوف خدا کریں اور اپنی اصلاح کریں۔ورنہ یہ واضح ہو کہ نظام جماعت، اگر نظام کے پاس معاملہ آ جائے تو کبھی ایسے بیہودہ لوگوں کا ساتھ نہیں دیتا، نہ دے گا۔اور پھر یہی نہیں کہ لڑکے خود کرتے ہیں بلکہ ایسے لڑکوں کے ماں باپ بھی ان پر دباؤ ڈال کے ایسی حرکتیں کرواتے ہیں۔وہ بھی یا درکھیں کہ ان کی بھی بیٹیاں ہیں اور ان سے بھی یہی سلوک ہو سکتا ہے۔اور اگر بیٹیاں نہیں ہیں جن کی تکلیف کا احساس ہو، بعضوں کے بیٹے ہوتے ہیں اس لئے ان کو بیٹیوں کی تکلیف کا پتہ ہی نہیں لگتا۔تو یاد رکھیں کہ اللہ تعالیٰ کو تو جان دینی ہے، اس کے حضور تو حاضر ہونا ہے۔حضرت عائشہ ایک روایت کرتی ہیں کہ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو دیر سے گھر لوٹتے تو کسی کو زحمت دیئے یا جگائے بغیر خود ہی کھانا لے کر تناول فرما لیتے یا دودھ ہوتا تو خود ہی لے کر نوش فرمالیتے۔(مسلم کتاب الاشربه باب اکرام الضيف) یہ اُسوہ ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا لیکن بعض مثالیں ایسی سامنے آتی ہیں ، عمو ماً اب یہ ہوتا ہے کہ مرد لیٹ کام سے واپس آتے ہیں اور یہ روز کا معمول ہے اور اگر بیوی کسی دن طبیعت