خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 444 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 444

خطبات مسرور $2004 444 تشهد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: وَالَّذِيْنَ يَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ أَزْوَاجِنَا وَذُرِّيَّتِنَا قُرَّةَ أَعْيُنٍ وَاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ إِمَامًا﴾ (سورة الفرقان آیت نمبر 75) اور وہ لوگ جو یہ کہتے ہیں کہ اے ہمارے رب! ہم کو اپنے جیون ساتھیوں اور اولاد سے آنکھوں کی ٹھنڈک عطا کر اور ہمیں متقیوں کا امام بنا۔اللہ تعالیٰ نے مرد کے قومی کو جسمانی لحاظ سے مضبوط بنایا ہے اس لئے اس کی ذمہ داریاں اور فرائض بھی عورت سے زیادہ ہیں۔اس سے ادا ئیگی حقوق کی زیادہ توقع کی جاتی ہے۔عبادات میں بھی اس کو عورت کی نسبت زیادہ مواقع مہیا کئے گئے ہیں۔اور اس لئے اس کو گھر کے سربراہ کی حیثیت بھی حاصل ہے اور اسی وجہ سے اس پر بحیثیت خاوند بھی بعض اہم ذمہ داریاں ڈالی گئی ہیں۔اور اسی وجہ سے بحیثیت باپ اس پر ذمہ داریاں ڈالی گئی ہیں۔اور بہت ساری ذمہ داریاں ہیں، چند ایک کا میں یہاں ذکر کروں گا۔اور ان ذمہ داریوں کو نبھانے کے لئے حکم دیا کہ تم نیکیوں پر قائم ہو ، تقویٰ پر قائم ہو، اور اپنے گھر والوں کو، اپنی بیویوں کو، اپنی اولاد کو تقویٰ پر قائم رکھنے کے لئے نمونہ بنو۔اور اس کے لئے اپنے رب سے مدد مانگو، اس کے آگے روڈ ، گڑ گڑاؤ اور اللہ تعالیٰ سے دعا کرو کہ اے اللہ! ان راستوں پر ہمیشہ چلا تارہ جو تیری رضا کے راستے ہیں، کبھی ایسا وقت نہ آئے کہ ہم بحیثیت گھر کے سربراہ کے، ایک خاوند کے اور ایک باپ کے، اپنے حقوق ادا نہ کرسکیں اور اس وجہ سے تیری ناراضگی کا موجب بنیں۔تو جب انسان سچے دل سے یہ دعا مانگے اور اپنے عمل سے بھی اس معیار کو حاصل