خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 367
$2004 367 خطبات مسرور تھے۔اس لئے باوجود اس کے کہ جماعت میں چندوں کا ایک نظام جاری ہے اور جو چندے ادا کرتے ہیں وہ اس سے بہت زیادہ ہیں جو زکوۃ کی شرح ہے۔بہر حال یہ بھی ایک فرض ہے اس کی طرف توجہ کرنی چاہئے۔اور نصاب اور شرح کے مطابق زکوۃ کو ادا کرنا چاہئے۔اور خاص طور پر جس طرح میں نے کہا عورتیں اس طرف توجہ کریں تو انشاء اللہ تعالیٰ زکوۃ کی رقم میں بھی کافی اضافہ ہوسکتا ہے۔ایک روایت میں آتا ہے حضرت عمرو بن شعیب اپنے دادا کے واسطے سے روایت کرتے ہیں کہ ایک عورت اپنی بیٹی کو ساتھ لے کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئی ، اس کی بیٹی نےسونے کے بھاری کنگن پہنے ہوئے تھے۔حضور نے اس عورت سے پوچھا کہ کیا ان کی زکوۃ بھی دیتی ہو؟ اس نے جواب دیا نہیں یا رسول اللہ ! تو آپ نے فرمایا کہ کیا تو پسند کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن تجھے آگ کے کنگن پہنائے؟۔یہ سن کر اس عورت نے اپنی بیٹی کے ہاتھ سے کنگن اتار لئے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کرتے ہوئے عرض کیا کہ یہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے لئے ہیں، جہاں چاہیں آپ خرچ فرمائیں۔(سنن ابو داؤد۔کتــاب الزكواة باب الكفر ما هو وزكواة الحلى) اور دوسری روایت میں ہے کہ آپ نے فرمایا کہ اگر تم یہ نہ دیتیں تو آگ کے کنگن پہنائے جاتے۔اس روایت کے بعد خاص طور پر جن پر زکوۃ واجب ہے ان کو توجہ دینی چاہئے۔اور جیسا کہ میں نے کہا عورتوں پر زیادہ واجب ہوتی ہے ان کے خاوندوں کو ان کی مدد کرنی چاہئے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : ”سواے اسلام کے ذی مقدرت لوگو! دیکھو میں یہ پیغام آپ لوگوں تک پہنچادیتا ہوں کہ آپ لوگوں کو اس اصلاحی کارخانے کی جو خدا تعالیٰ کی طرف سے نکلا ہے اپنے سارے دل اور ساری توجہ اور سارے اخلاص سے مدد کرنی چاہئے۔اور اس کے سارے پہلوؤں کو بنظر عزت دیکھ کر بہت جلد حق خدمت ادا کرنا چاہئے۔جو شخص اپنی حیثیت کے موافق کچھ ماہواری چندہ دینا چاہتا ہے وہ اس