خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 368 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 368

368 $2004 خطبات مسرور کو حق واجب اور دین لازم کی طرح سمجھ کر خود بخود ما ہوا اپنی فکر سے ادا کرے اور اس فریضے کو خالصتاً اللہ نذر مقرر کر کے اس کے ادا میں تخلف یا سہل انگاری کو روانہ رکھئے۔( یعنی کسی قسم کی سستی وغیرہ نہ ہونی چاہئے )۔اور جو شخص یکمشت امداد کے طور پر دینا چاہتا ہے وہ اسی طرح ادا کرے۔لیکن یاد رہے کہ اصل مدعا جس پر اس سلسلے کے بلا انقطاع چلنے کی امید ہے (یعنی بغیر کسی روک کے چلنا چاہئے ) وہ یہی انتظام ہے کہ بچے خیر خواہ دین کے اپنی بضاعت اور اپنی بساط کے لحاظ سے (اپنی طاقت کے لحاظ سے، اپنے وسائل کے لحاظ سے ) ایسی سہل رقم ماہواری کے طور پر ادا کرنا اپنے نفس پر ایک حتمی وعدہ ٹھہرالیں جن کو بشرط نہ پیش آنے کسی اتفاقی مانع کے بآسانی ادا کر سکیں“۔(یعنی اگر کوئی اتفاقی حادثہ نہ پیش آ جائے آمدنی میں کمی نہ ہو جائے ، کاروبار میں نقصان نہ ہو جائے سوائے اس کے کہ ایسا کوئی اتفاقی حادثہ پیش آجائے ضرور ہے، لازمی ہے کہ ماہوار چندہ ادا کیا کریں )۔پھر فرمایا: ”ہاں جس کو اللہ جلشانہ توفیق اور انشراح صدر بخشے وہ علاوہ اس ماہواری چندے کے اپنی وسعت، ہمت اور اندازہ مقدرت کے موافق یکمشت کے طور پر بھی مدد کر سکتا ہے“۔یعنی ماہوار چندہ ادا کرنے کے علاوہ جو بھی توفیق ہوا سے جو بھی طاقت ہے اور آمدنی ہے اس کے حساب سے پھر اگر اکٹھی رقم بھی دینی پڑے تو دی جائے۔پھر فرمایا : ” اور تم اے میرے عزیز و! میرے پیارو! میرے درخت وجود کی سرسبز شاخو! جو خدا تعالیٰ کی رحمت سے جو تم پر ہے میرے سلسلہ بیعت میں داخل ہو اور اپنی زندگی ، اپنا آرام، اپنامال اس راہ میں فدا کر رہے ہو اگر چہ میں جانتا ہوں کہ میں جو کچھ کہوں تم اسے قبول کرنا اپنی سعادت سمجھو گے اور جہاں تک تمہاری طاقت ہے دریغ نہیں کرو گے۔لیکن میں اس خدمت کے لئے معین طور پر اپنی زبان سے تم پر کچھ فرض نہیں کر سکتا۔تا کہ تمہاری خدمتیں نہ میرے کہنے کی مجبوری سے بلکہ اپنی خوشی سے ہوں“۔(فتح اسلام روحانی خزائن جلد 3 صفحه ٣٣-٣٤) ماہوار چندے کی شرح خلافت ثانیہ میں مقرر ہوئی جب با قاعدہ ایک نظام قائم ہوا اور چندہ