خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 353
$2004 353 خطبات مسرور کر کے دکھا دے۔تو مخالفوں کی خوشیوں کو اللہ تعالیٰ نے کس طرح پامال کیا۔اب بھی بعض مخالفین شور مچاتے ہیں، منافقین بھی بعض باتیں کر جاتے ہیں۔وہ چاہے جتنا مرضی شور مچالیس ، جتنا مرضی زور لگا لیں ، خلافت اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی ہے اور جب تک اللہ چاہے گا یہ رہے گی اور جب چاہے گا مجھے اٹھا لے گا اور کوئی نیا خلیفہ آ جائے گا۔لیکن حضرت خلیفہ اول کے الفاظ میں میں کہتا ہوں کسی انسان کے بس کی بات نہیں کہ وہ ہٹا سکے یا فتنہ پیدا کر سکے۔جماعت اللہ تعالیٰ کے فضل سے بہت مضبوط ہے اور ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح ہے۔افریقہ میں بھی میں دورہ پر گیا ہوں ایسے لوگ جنہوں نے کبھی دیکھا نہیں تھا اس طرح ٹوٹ کر انہوں نے محبت کا اظہار کیا ہے جس طرح برسوں کے بچھڑے ملے ہوتے ہیں یہ سب کیا ہے؟ جس طرح ان کے چہروں پر خوشی کا اظہار میں نے دیکھا ہے، یہ سب کیا ہے؟۔جس طرح سفر کی صعوبتیں اور تکلیفیں برداشت کر کے وہ لوگ آئے ، یہ سب کچھ کیا ہے؟۔کیا دنیا دکھاوے کے لئے یہ سب خلافت سے محبت ہے جو ان دور دراز علاقوں میں رہنے والے لوگوں میں بھی اللہ تعالیٰ نے پیدا کی ہے۔تو جس چیز کو اللہ تعالیٰ پیدا کر رہا ہے وہ انسانی کوششوں سے کہاں نکل سکتی ہے۔جتنا مرضی کوئی چاہے، زور لگا لے۔عورتوں، بچوں، بوڑھوں کو با قاعدہ میں نے آنسوؤں سے روتے دیکھا ہے۔تو یہ سب محبت ہی ہے جو خلافت کی ان کے دلوں میں قائم ہے۔بچے اس طرح بعض دفعہ دائیں بائیں سے نکل کے سیکیورٹی کو توڑتے ہوئے آ کے چمٹ جاتے تھے۔وہ محبت تو اللہ تعالیٰ نے بچوں کے دل میں پیدا کی ہے، کسی کے کہنے پہ تو نہیں آسکتے۔اور پھر ان کے ماں باپ اور دوسرے ارد گر دلوگ جو ا کٹھے ہوتے تھے ان کی محبت بھی دیکھنے والی ہوتی تھی۔پھر اس بچے کو اس لئے وہ پیار کرتے تھے کہ تم خلیفہ وقت سے چمٹ کے اور اس سے پیار لے کر آئے ہو۔یہ سب باتیں احمدیت کی سچائی کی دلیل ہیں۔اگر کسی کی نظر ہو دیکھنے کی تبھی دیکھ سکتا ہے۔چند لوگ اگر مرتد ہوتے ہیں یا منافقانہ باتیں کرتے ہیں تو ان کی ہمیں کوئی پرواہ نہیں ہے۔ایک بدفطرت اگر جاتا ہے تو جائے، اچھا ہے خس کم جہاں پاک۔وہ اپنے بدانجام کی طرف قدم بڑھا رہا ہے وہی۔