خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 352 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 352

$2004 352 مسرور خدا تعالیٰ جس شخص کو خلافت پر کھڑا کرتا ہے وہ اس کو زمانے کے مطابق علوم بھی عطا کرتا ہے اگر وہ احمق، جاہل اور بیوقوف ہوتا ہے۔پھر فرمایا کہ: ”اس کے یہ معنی ہیں کہ خلیفہ خود خدا بناتا ہے اس کے تو معنی ہی یہ ہیں کہ جب کسی کو خدا خلیفہ بناتا ہے تو اسے اپنی صفات بخشتا ہے۔اور اگر وہ اسے اپنی صفات نہیں بخشا تو خدا تعالیٰ کے خود خلیفہ بنانے کے معنی ہی کیا ہیں“۔(الفرقان مئی جون ١٩٦٧ء صفحه ٣٧) میں جب اپنے آپ کو دیکھتا ہوں، اپنی نااہلی او کم مائیگی کو دیکھتا ہوں اور میرے سے زیادہ میرا خدا مجھے جانتا ہے کہ میرے اندر کیا ہے تو اس وقت ہر لمحے اللہ تعالیٰ کی قدرت یاد آ جاتی ہے۔مکرم میر محمود احمد صاحب نے ایک شعر کہا ؎ مجھ کو بس ہے میرا مولیٰ، میرا مولیٰ مجھے کو بس کیا خدا کافی نہیں ہے، کی شہادت دیکھ لی اس کی بیک گراؤنڈ جو میں سمجھتا ہوں وہ یہ ہے کہ ایک تو کیا خدا کافی نہیں کی شہادت الیس اللہ کی انگوٹی ہے جوخلیفہ اسے کوملتی ہے۔اس کے علاوہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تین انگوٹھیاں تھیں جو آپ کے تین بیٹوں کو ملیں۔اور جو مولی بس، کی انگوٹھی تھی (ایک انگوٹھی جس پر مولی بس کا الہام کندہ تھا ) وہ حضرت مرزا شریف احمد صاحب کے حصہ میں آئی تھی اور یہ میں نے پہنچی ہوئی ہے۔اس کے بعد میرے والد صاحب حضرت صاحبزادہ مرزا منصور احمد صاحب کو ملی اور ان کی وفات کے بعد میری والدہ نے مجھے دے دی۔میں تو اس کو بڑی سنبھال کے رکھتا تھا، پہنتا نہیں تھا لیکن انتخاب خلافت کے بعد میں نے یہ پہنی شروع کی ہے۔تو مولی بس کے نظارے اور کیا خدا کافی نہیں ہے کے نظارے مجھے تو ہر لمح نظر آتے ہیں کیونکہ اگر ویسے میں دیکھوں تو میری کوئی حیثیت نہیں ہے۔لوگوں کے دلوں میں محبت اللہ تعالیٰ نے پیدا کی ہے۔کوئی انسان محبت پیدا نہیں کر سکتا۔جیسا کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا تھا کہ مخالفوں کی دو جھوٹی خوشیوں کو پامال