خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 299
$2004 299 خطبات مسرور کے ذہن میں نہیں آتا۔تو یہ سب اس لئے ہے کہ اس کے نزدیک اس زندگی کا سب مقصد دنیا ہی دنیا ہے اور ایک دنیادار کو شیطان اس دنیا کی خوبصورتی اور اس کی زینت اور زیادہ ابھار کر دکھاتا ہے۔تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ باقی رہنے والی چیز نیکی ہے، نیک اعمال ہیں، اللہ تعالیٰ کی خشیت ہے، اس کی عبادت کرنا ہے۔اس لئے تم اس کے عبادت گزار بندے بنوا گر اس کی رضا حاصل کرنی ہے۔یہ دنیا تو چند روزہ ہے، کوئی زیادہ سے زیادہ سو سال زندہ رہ لے گا اس کے بعد انسان نے مرکر اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہونا ہے۔اس لئے آخرت کے لئے دولت اکٹھی کر و بجائے اس دنیا میں دولت بنانے کے۔فرمایا کہ اگر یہ سوچ پیدا کر لو گے تو یہی مال اور دولت اور بیٹے اور وسیع کارو بار تمہارے لئے ایک بہترین اثاثہ بن جائیں گے۔کیونکہ جو شخص اپنے مال و دولت کے ساتھ خدمت دین بھی کر رہا ہوا اپنے ملک وقوم کی خدمت بھی کر رہا ہو، انسانیت کی خدمت بھی کر رہا ہو تو سمجھ لو کہ تم نے اپنے رب سے بہترین چیز حاصل کر لی اور ایسی چیزیں حاصل کر لیں جو مرنے کے بعد بھی تمہارے کام آئیں گی۔اور اگر یہی وصف اپنی اولاد میں پیدا کر دو تو پھر دنیا نہ صرف تمہاری تعریف کر رہی ہوگی بلکہ تمہارے آباء و اجداد کے لئے بھی دعا کر رہی ہو گی، تمہارے لئے بھی دعا کرے گی اور تمہاری اولادوں کے لئے بھی دعا کرے گی۔اس سے تمہاری نیکیوں میں اور اضافہ ہوتا چلا جائے گا اور تمہاری آخرت مزید سنورتی چلی جائے گی۔تو یہ سوچ اور کوشش ہر مومن کی ہونی چاہئے ، جس کو نہ صرف اپنی فکر رہے بلکہ اپنی نسلوں کی بھی فکر رہے۔یہ سوچو کہ دنیا بھی کماؤلیکن مقصد صرف اور صرف دنیا نہ ہو بلکہ جہاں اللہ اور اس کے بندوں کے حقوق کا سوال پیدا ہوتا ہو تو اس وقت دنیا سے مکمل بے رغبتی ہو۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس کی تفسیر میں فرماتے ہیں تھوڑ اسا اقتباس میں پیش کرتا ہوں :۔اس آیت میں یہ بتایا گیا ہے کہ مال اور اولاد بے شک دنیا کی زینت ہیں لیکن اگر انہیں