خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 180
$2004 180 خطبات مسرور رہے ہو کہ ہم اللہ کے بندے اور اس کا خوف رکھنے والے ہیں۔لیکن عمل اس کے خلاف گواہی دے رہا ہے۔اب بعض دفعہ چھوٹی چھوٹی آپس میں بھی چپقلشیں ہو جاتی ہیں کجا یہ کہ دشمنوں سے بھی انصاف کا سلوک ہو تو کہاں بعض دفعہ یہ عمل ہوتا ہے اپنوں سے بھی چھوٹی موٹی لڑائیوں میں، چپقلشوں میں ناراضگیوں میں اپنے خاندان یا ماحول میں فوراً مقد مے بازی شروع ہو جاتی ہے۔اور بعض دفعہ انتہائی تکلیف دہ صورت حال ہو جاتی ہے کہ معمولی سی باتوں پر تھانے کچہری کے چکر لگنے شروع ہو جاتے ہیں۔مقدمے بازی شروع ہو جاتی ہے اور ایک دوسرے کے خلاف بعض دفعہ جھوٹی گواہیاں بھی دے رہے ہوتے ہیں۔اللہ تعالیٰ کا کوئی خوف نہیں رہتا ہکمل طور پر شیطان کے پنجے میں چلے جاتے ہیں اور اس کے باوجود کہ اپنا کیس مضبوط کرنے کے لئے پتہ بھی ہوتا ہے کہ جان بوجھ کر بعض غلط باتیں بھی کر رہے ہیں، جھوٹ بھی بول رہے ہیں لیکن شیطان اتنی جرات دلا دیتا ہے کہ کہنے لگ جاتے ہیں کہ دیکھو ہمارے ساتھ انصاف نہیں ہو رہا۔بھول جاتے ہیں کہ ہمارے اوپر خدا بھی ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر تم رحمن کے بندے بنا چاہتے ہو تو اپنے ذہنوں کو مکمل طور پر صاف کرو اور مقصد صرف اور صرف انصاف اور عدل قائم کرنا ہو۔کسی قوم کی دشمنی بھی تمہیں اس بات سے نہ رو کے کہ تم انصاف اور عدل قائم نہ کرو۔اس حکم کی عملی شکل ہمیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک فیصلے میں اس طرح نظر آتی ہے، روایت یہ ہے۔حضرت مصلح موعود نے کوٹ (Quote) کیا ہے کہ ایک دفعہ کچھ صحابہ کو باہر خبر رسانی کے لئے بھجوایا گیا، کیونکہ جنگی حالات تھے مسلمانوں پر مشکلات تھیں، حالات پر نظر رکھنی ہوتی تھی۔تو دشمن کے کچھ آدمی ان کو حرم کی حد میں مل گئے اور انہوں نے ( یعنی مسلمانوں نے سمجھا کہ اگر ہم نے ان کو زندہ چھوڑ دیا تو یہ مکہ والوں کو جا کر خبر کر دیں گے اور ہم مارے جائیں گے۔اس سوچ کے ساتھ انہوں نے ان پر حملہ کر دیا اور ان کفار میں سے ایک آدمی مارا بھی گیا۔جب یہ خبریں دریافت کرنے والا قافلہ واپس مدینے پہنچا تو پیچھے پیچھے