خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 170 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 170

170 $2004 خطبات مسرور ثوبان نے عرض کیا حضور اس عہد کا اجر کیا ہو گا۔حضور نے فرمایا جنت۔اس پر ثوبان نے حضور کے اس عہد پر عمل کرنے کا اقرار کیا۔ابوامامہ کہتے ہیں میں نے ثوبان کو مکے میں دیکھا کہ سخت بھیڑ کے باوجود بھی اگر وہ گھوڑے پر بیٹھے ہوتے تھے تو اگر چابک بھی گر جاتا تھا تو کسی کو یہ نہیں کہتے تھے کہ اٹھا کر دو بلکہ اتر کر زمین پر سے اٹھاتے تھے اور اگر کوئی شخص پکڑانا بھی چاہتا تھا تو نہ لیتے بلکہ خود اتر کر اٹھاتے تھے کہ میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ عہد کیا ہوا ہے۔(الترغيب والترهيب) تو عہد نبھانے کے یہ معیار ہیں۔پھر حضرت عبداللہ بن عباس سے روایت ہے کہ مجھے ابوسفیان نے بتایا کہ ھرقل نے انہیں کہا کہ میں نے یہ پوچھا تھا کہ محمد تمہیں کس چیز کا حکم دیتا ہے اس کا تو نے جواب دیا کہ وہ نماز، صدق ، پاک دامنی، عہد پورا کرنے اور امانتیں ادا کرنے کا حکم دیتا ہے۔ھرقل نے کہا یہی تو ایک نبی کی صفت ہے۔(صحیح بخاری کتاب الشهادات باب من امر بانجاز الوعد شہنشاہ روم ھر قل نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا تبلیغی خط ملنے پر اپنے دربار میں سردار قریش ابوسفیان کو بلا کر جب بغرض تحقیق کچھ سوال کئے تو یہی پوچھا تھا کہ کیا اس مدعی رسالت نے کبھی کوئی بد عہدی بھی کی ہے۔تو ابوسفیان رسول اللہ کا جانی دشمن تھا مگر پھر بھی اسے ھر قل کے سامنے تسلیم کرنا پڑا کہ آج تک اس نے ہم سے کوئی بد عہدی نہیں کی۔البتہ آج کل ہمارا ایک معاہدہ چل رہا ہے، ( جو حدیبیہ کا تھا)، دیکھیں اس میں وہ کیا کرتے ہیں تو ابوسفیان کہتا ہے کہ میں ھر قل کے سامنے اس سے زیادہ میں اپنی گفتگو میں حضور کے خلاف کوئی بات داخل نہیں کر سکا تھا۔(بخاری کتاب بدء الوحي باب كيف بدء الوحي الى رسول الله) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے عہدوں کی پابندی کی اس قدر تلقین فرمائی ہے کہ بعض دفعہ مسلمانوں کو انتہائی تکلیف دہ صورتحال دیکھ کر بھی کبھی عہد شکنی نہیں کی۔ایک روایت ہے کہ صلح حدیبیہ میں ایک شق یہ تھی کہ مکے سے جو مسلمان ہو کر مدینے چلا جائے گا وہ اہل مکہ کے مطابق واپس کر دیا جائے تو عین اس وقت جب معاہدے کی شرطیں زیر تحریر