خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 166
خطبات مسرور 166 $2004 پھر حضرت عبداللہ بن عباس بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنے بھائی سے جھگڑے کی طرح نہ ڈالو اور نہ اس سے بیہودہ تحقیر آمیز مذاق کرو اور نہ اس سے ایسا وعدہ کرو جسے پورا نہ کر سکو۔(الادب المفرد لامام بخاری الجامع الصغير لسيوطى حرف لا) بعض لوگ ضرورت کے وقت کسی سے قرض لے لیتے ہیں اور بڑے اعتماد سے اس کی لکھت پڑھت بھی کر لیتے ہیں کبھی شک ہی نہیں پڑتا اور قرض لینے والے کو خود یہ پتہ ہوتا ہے کہ ہم اس مدت میں یہ ادا نہیں کر سکیں گے تو ایسے لوگوں کو بھی یہ خیال رکھنا چاہئے کہ جب یہ پتہ ہو کہ نہیں ادا کر سکتے تو پھر صاف صاف بات کرنی چاہئے ، قول سدید سے کام لینا چاہئے کہ اتنی مدت سے پہلے ادا کرنا ممکن نہیں جتنی مدت میسر ہے کرو، دینے والا اگر اس مدت میں برداشت کر سکے گا تو دے دے گا نہیں دے گا تو کہیں اور سے انتظام کر لے گا۔تو بہر حال بدعہدی نہیں ہونی چاہئے۔حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا منافق کی تین علامتیں ہیں جب گفتگو کرتا ہے تو کذب بیانی سے کام لیتا ہے، جب اس کے پاس امانت رکھی جاتی ہے تو خیانت کرتا ہے اور جب وعدہ کرتا ہے تو وعدہ خلافی کرتا ہے۔(بخاری کتاب الشهادات باب من امر بانجاز الوعد وفعله الحسن) اب اگر کسی کو یہ پتہ چلے کہ فلاں نے مجھے منافق کہا تو فوراً مر نے مارنے پر آمادہ ہو جاتے ہیں، یہ تصور ہے لیکن اگر وہی بد عہد ہے اور اپنے وعدے کے خلاف کرتا ہے تو اس کو کبھی احساس ہی نہیں ہوتا پر واہ ہی نہیں ہو رہی ہوتی۔ایک عام آدمی کے منافق کہنے پر تو بہت زیادہ غصے میں آجاتے ہیں لیکن اللہ کے رسول نے ایسے لوگوں کو کو منافق کہا ہے تو پھر ایسے لوگوں کو بہر حال دل میں خوف ہونا چاہئے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ یا درکھو کہ منافق وہی نہیں ہے جو ایفائے عہد نہیں کرتا، زبان سے اخلاص ظاہر کرتا ہے مگر دل میں اس کے کفر ہے بلکہ وہ بھی منافق ہے جس کی