خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 165 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 165

خطبات مسرور 165 $2004 الْأَرْضِ أُوْلَئِكَ لَهُمُ اللَّعْنَةُ وَلَهُمْ سُوءُ الدَّارِ۔(سورة الرعد آیت ۲۶) اور وہ لوگ جو اللہ کے عہد کو پختگی سے باندھنے کے بعد تو ڑ دیتے ہیں اور اسے قطع کرتے ہیں جسے جوڑنے کا اللہ نے حکم دیا ہے اور زمین میں فساد کرتے پھرتے ہیں ، یہی وہ لوگ ہیں جن کے لئے لعنت ہے اور ان کے لئے بدتر گھر ہوگا۔تو یہاں فرمایا کہ دیکھو یہ خسارہ کیا ہے جو تمہیں اپنی بدعہدی کی وجہ سے ہوگا۔یہ نقصان کیا ہے جو تمہیں اپنے عہد توڑنے کی وجہ سے برداشت کرنا پڑے گا۔تو سنو اس کو معمولی نہ سمجھو یہ بہت بڑا نقصان ہے جس کی برداشت کی تم میں طاقت نہیں ہے، ان بدعہدیوں کی سزا یہ ہوگی ، ایسے بدعہدں کو فرمایا کہ پھر تم پر لعنت ہو گی ، اب اللہ جس پر لعنت ڈال دے اس کا تو نہ دین رہانہ دنیار ہی اور پھر بدتر گھر ہوگا مرنے کے بعد بھی تمہارا ٹھکانہ جہنم ہی ہوگا اور وہ ایسا ٹھکانہ ہے کہ پھر اگر تم ہاتھ بھی جوڑتے رہو گے کہ اے اللہ تعالیٰ ! ہم سے غلطی ہو گئی ، ہمیں ایک موقع دے واپس دنیا میں بھیج دے تو ہم نیکیاں کریں تو وہ سب بے فائدہ ہوگا۔تو دیکھیں کتنا خوفناک انذار ہے۔عام طور پر لوگ سمجھتے ہیں کہ عہد کرو، معاہدے کرو ، توڑ دو کوئی فرق نہیں پڑتا اور کیونکہ عمومی طور پر معاشرہ بگڑا ہوا ہے اس لئے جب ایسے لوگوں کے پاس (یہ دنیا دار لوگوں کی میں بات کر رہا ہوں ) جب حکومت آتی ہے تو حکومتی معاہدوں کو بھی عذر تلاش کر کے توڑنے کی کوشش کر رہے ہوتے ہیں اس لئے ہر سطح پر اب یہ احمدی کی ذمہ داری ہے کہ وہ معاہدوں کی پاسداری کرنے والے اور کرانے والے ہوں۔اور اس اعلیٰ خلق کو قائم کرنے والے ہوں۔حدیث میں آتا ہے حضرت انس بن مالک سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ جو شخص امانت کا لحاظ نہیں رکھتا اس کا ایمان کوئی ایمان نہیں اور جو عہد کا پاس نہیں کرتا اس کا کوئی دین نہیں۔(مسند احمد بن حنبل جلد ۳ صفحه ١٣٥ مطبوعه بيروت)