خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 10
خطبات مسرور 10 نہیں چاہتا کہ تم لوگ میرا مقام اس سے بڑھا چڑھا کر بتاؤ جو اللہ نے مقررفرمایا ہے۔$2004 (مسند احمد بن حنبل جلد نمبر ۳ صفحه ٣٤٩ مطبوعه مصر آج کل یہاں کسی کی تعریف کر دیں تو پھولے نہیں سما تا بلکہ فخر ہورہا ہوتا ہے چاہے وہ اس مقام کا ہو بھی یا نہ۔اور آنحضرت ﷺ کا اسوہ حسنہ دیکھیں۔ایک دفعہ حضور اکرم ﷺ نے اپنے صحابہ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا۔کہ تم میں سے کسی کو اس کے اعمال جنت میں لے کر نہیں جائیں گے۔صحابہ نے تعجب سے عرض کیا۔یا رسول اللہ ! کیا آپ کے عمل بھی ؟۔تو آپ نے فرمایا ہاں۔مجھے بھی اگر خدا کی رحمت اور فضل ڈھانپ نہ لیں تو میں بھی جنت میں نہیں جاسکتا۔(مسلم کتاب صفات المنافقين واحكامهم باب لن يدخل احد الجنة بعمله) اب دیکھیں عاجزی کی کتنی انتہا ہے حالانکہ کائنات کو آپ کی خاطر پیدا کیا گیا۔اور آپ کی عاجزی اس حد تک ہے اس انتہا تک ہے۔پھر حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ نبی کریم ﷺ سے بڑھ کر کوئی حسین اخلاق والا نہیں تھا۔آپ کے صحابہ میں سے یا اہل خانہ میں سے جب بھی کسی نے آ کو بلایا تو ہمیشہ آپ کا جواب یہ ہوتا تھا کہ میں حاضر ہوں۔تب ہی تو قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔کہ آپ عظیم خلق پر قائم تھے۔(الوفاء باحوال المصطفى از علامه ابن جوزی صفحه ٤٦٧ حامد اینڈ کمپنی (لاهور پھر اپنی عاجزی کے اظہار اور اپنے خاندان کو صحیح راستے پر ڈالنے کے لئے اور ان کو عباد الرحمن بنانے کے لئے آپ نے کیسی خوبصورت نصیحت فرمائی۔ایک موقع پر آپ نے اپنی پھوپھی صفیہ کو فرمایا اے میری پھوپھی صفیہ بنت عبدالمطلب اور اے میری لخت جگر فاطمہ، میں تم کو اللہ کے عذاب سے ہرگز نہیں بچا سکتا۔اپنی جانوں کی خود فکر کرلو۔(بخاری کتاب التفسير سورة الشعراء زير آيت وانذر عشيرتك الاقربين تو ہمیشہ اللہ کا فضل اور صرف اس کا فضل ہی ہے جو انسان کو بچائے اور ہر وقت اس کے۔آگے جھکے رہنا چاہئے اور اللہ تعالیٰ کے احکامات کی ہر وقت تعمیل کرتے رہنا چاہئے اور اس کی مخلوق کی خدمت کرتے رہنا چاہئے۔