خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 9 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 9

9 $2004 خطبات مسرور مرد بھی اگر دکھاوے کے طور پر کپڑے پہنتے ہیں ، لباس پہن رہے ہیں تو وہ بھی اسی زمرے میں آتے ہیں۔صاف ستھرا اچھا لباس پہننا منع نہیں۔اس سوچ کے ساتھ یہ لباس پہننا منع ہے کہ اس میں فخر کا اظہار ہوتا ہو، دکھاوا ہوتا ہو۔حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا تواضع میں یہ بات بھی شامل ہے کہ انسان اپنے بھائی کا جوٹھا پی لے۔اور جس نے اپنے بھائی کا جوٹھا پی لیا اللہ تعالیٰ اس کے ستر درجے بڑھائے گا۔اس کے ستر گناہ معاف کر دے گا اور اس کے لئے ستر نیکیاں لکھی جائیں گی۔(کنز العمال ۵۷۴۸) بعض لوگ اس لئے کراہت کرتے ہیں کہ جوٹھا ہے یا فلاں میرے ہم پلہ نہیں۔اس لئے اس کا جوٹھا نہیں پینا، دوسرے کا پی لینا ہے۔اس میں بھی ایک قسم کا تکبر ہے۔اس سلسلے میں ایک لطیفہ بھی ہے ہمارے ایک بزرگ تھے ان کے بچے نے آکر شکایت کی کہ ابا ! فلاں بھائی نے یا بہن نے میرا پانی پی کر جو ٹھا کر دیا ہے۔تو انہوں نے کہا بچے ایسی باتیں نہیں کیا کرتے۔اور اسی پانی کو پی لیاد یکھو اس کا جوٹھا میں نے پی لیا۔جو ٹھا کوئی نہیں ہوتا۔تو بچے نے اور رونا شروع کر دیا کہ اب آپ نے بھی جو ٹھا کر دیا۔تو بہر حال یہ جوٹھ کوئی نہیں ہوتا۔سوائے اس کے کہ کوئی بیماری ہوا اور چھوت لگنے والی ہواس میں احتیاط ضروری ہے۔پھر ایک دفعہ کسی نے آنحضرت ﷺ کو یا خَيْرُ الْبَرِيَّه کہہ دیا ( یعنی اے مخلوق کے بہترین وجود) تو آپ نے فرمایاوہ تو براہیم علیہ السلام تھے۔عاجزی کی انتہا ہے۔(مسند احمد بن حنبل جلد نمبر ۳ صفحہ ۱۷۸) پھر ایک روایت میں آتا ہے کہ ایک شخص نے آکر آنحضرت ﷺ کو مخاطب کر کے فرمایا۔اسے محمد ﷺ ہم میں سے سب سے بہترین اور اے ہم میں سے سب سے بہترین لوگوں کی اولا داے ہمارے سردار اور اے ہمارے سرداروں کی اولاد۔آپ نے سنا تو فرمایا۔کہ دیکھو تم اپنی اصلی بات کہو اور کہیں شیطان تمہاری پناہ نہ لے۔میں محمد بن عبد اللہ ہوں اور اللہ کا رسول ہوں۔میں