خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 957
$2004 957 خطبات مسرور تمہارا طریق ہونا چاہئے۔خواہ ایک حبشی غلام کو ہی کیوں نہ تمہارا افسر مقرر کر دیا جائے۔کسی کو حقیر اور کمزور سمجھتے ہوا گر وہ بھی تمہارا امام ہے تو اطاعت کرو۔( صحیح بخاری کتاب الاحكام باب السمع والطاعة للامام مالم تكن معصية) پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر کوئی اپنے امیر میں کوئی بظاہر نا گوار یا کوئی بری بات دیکھے تو وہ صبر کرے اور کیونکہ جو شخص تھوڑا سا بھی جماعت سے الگ ہو جاتا ہے اور تعلق تو ڑلیتا ہے وہ جہالت کی موت مرتا ہے۔(صحیح مسلم كتاب الامارة باب الامر بلزوم الجماعة عند ظهور الفتن وتحذير الدعاة الى الكفر) تو صبر سے مراد یہ ہے کہ امیر کی بری بات دیکھ کے یہ نہیں کہ پورے نظام کے خلاف ہو جاؤ۔نظام سے وابستہ رہو اور وہ بات آگے پہنچا دو اور اس کے بعد صبر کرو۔جماعت سے تعلق نہیں ٹوٹنا چاہئے۔اگر تمہارا جماعت سے تعلق ٹوٹتا ہے تو یہ جہالت کی موت ہے۔تو جن لوگوں کا یہ خیال ہوتا ہے کہ ہم برداشت نہیں کر سکتے اس لئے ہم ایک طرف ہو گئے نمازوں اور جمعوں پر بھی بعض نے آنا چھوڑ دیا تو فرمایا کہ یہ ایسی حرکتیں ہیں، یہ جہالت کی حرکتیں ہیں۔انکا د کا کوئی واقعات ہوتے ہیں۔اللہ کے فضل سے عموماً ایسا جماعت میں نہیں ہوتا۔یہ جہالت کی حرکتیں جو ہیں ان سے ہمیشہ بچنا چاہئے۔تمہارا کام یہ ہے کہ صبر کرو اور دعا کرو۔جیسا کہ میں نے شروع میں بھی کہا تھا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تمہاری یہ نیک نیتی سے کی گئی دعاؤں کو قبول میں کروں گا۔پھر ایک روایت میں آتا ہے۔حضرت عوف بن مالک بیان کرتے ہیں کہ میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ تمہارے بہترین سردار وہ ہیں جن سے تم محبت کرتے ہو اور وہ تم سے محبت کرتے ہیں۔تم ان کے لئے دعا کرتے ہوا اور وہ تمہارے لئے دعا کرتے ہیں۔تمہارے بدترین سردار وہ ہیں جن سے تم بغض رکھتے ہو اور وہ تم سے بغض رکھتے ہیں۔تم ان پر لعنت بھیجتے ہو اور وہ تم پر لعنت بھیجتے ہیں۔راوی کہتا ہے کہ اس پر ہم نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ ہم ایسے سرداروں کو ان سے جنگ کر کے ہٹا کیوں نہ دیں۔آپ نے فرمایا نہیں جب تک وہ تم میں نماز قائم کرتے ہیں اس وقت تک کوئی ایسی بات نہیں کرنی۔(صحیح مسلم کتاب الامارة باب وجوب الانكار على الامراء فيما يخالف الشرع)