خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 956 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 956

$2004 956 خطبات مسرور اور نا خوشی حق تلفی اور ترجیحی سلوک غرض ہر حالت میں تیرے لئے حاکم وقت کے حکم کو سننا اور اس کی اطاعت کرنا واجب ہے۔( صحیح مسلم کتاب الامارۃ) فرمایا کہ جو حالات بھی ہوں تمہاری حق تلفی بھی ہو رہی ہو ، تمہارے سے زیادتی بھی ہو رہی ہو تمہارے ساتھ اچھا سلوک نہ بھی ہو اور دوسرے کے ساتھ بہتر سلوک ہو رہا ہو، تب بھی تم نے کہنا ماننا ہے۔سامنے لڑائی جھگڑے کے لئے کھڑے نہیں ہو جانا۔کسی بات سے انکار نہیں کر دینا۔بلکہ تمہارا کام یہ ہے کہ اطاعت کرو۔یہ بہر حال نظام جماعت میں بھی حق ہے کہ اگر کوئی غلط بات دیکھیں تو خلیفہ وقت کو اطلاع کر دیں اور پھر خاموش ہو جائیں، پیچھے نہیں پڑ جانا کہ کیا ہوا، کیا نہیں ہوا۔اطلاع کر دی ، بس ٹھیک ہے۔حضرت عبادہ بن صامت بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے بیعت کے وقت عہد لیا کہ تنگی ہو یا آسائش، خوشی ہو یا نا خوشی ، ہر حال میں آپ کی بات سنیں گے اور اطاعت اور فرمانبرداری کریں گے خواہ ہم پر دوسروں کو ترجیح دی جائے۔نیز ہم ان لوگوں سے جو کام کے اہل اور صاحب اقتدار ہیں، مقابلہ نہیں کریں گے سوائے اس کے کہ ہم کھلا کھلا کفر دیکھیں اور ہمارے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی برہان آجائے کہ حکام غلطی پر ہیں۔نیز اللہ تعالیٰ کے حکم کے بارے میں ہم کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہیں ڈریں گے اور حق بات کہیں گے۔(صحیح مسلم کتاب الامارة باب وجوب طاعة الامراء تو مطلب یہی ہے کہ اطاعت کے دائرے میں رہتے ہوئے یہ حق بات کہنی ہے۔سوائے شریعت کے واضح حکم کی کوئی خلاف ورزی کر رہا ہو تو پھر اطاعت نہ کریں جس طرح حکومت پاکستان نے احمدیوں پر پابندی لگا دی ہے کہ نمازیں نہیں پڑھنیں۔تو یہ تو ہمارا ایک حق ہے اللہ تعالیٰ کے حکم کی پابندی کرنا۔اور شریعت کے قانون پر تو کوئی قانون بالا نہیں ہے اس لئے احمدی نمازیں پڑھتا ہے۔اس کے علاوہ ہر ملکی قانون کی ہر طرح پابندی کی جاتی ہے۔پھر ایک روایت میں آتا ہے ، حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سنو اور اطاعت کرو۔یہ جو دوالفاظ ہیں ان کو اپنا شعار بناؤ، یہی