خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 955
955 $2004 خطبات مسرور الوجه عند اللقاء)۔تو مسکرا کر ملنا اور بھائی کے جذبات کا خیال رکھنا بھی نیکی ہے۔تو نیکیوں کا پلڑا تو جتنا بھی بھاری کیا جائے اتنا ہی کم ہے۔اس لئے عہدیداران کو ، امراء کو خاص طور پر توجہ دینی چاہئے۔اب میں افراد جماعت کو بھی کچھ کہنا چاہتا ہوں کہ ان کا نظام جماعت میں کیا کردار ہونا چاہئے۔پہلی بات یاد رکھیں کہ جتنے زیادہ افراد جماعت کے معیار اعلیٰ ہوں گے اتنے زیادہ عہد یداران کے معیار بھی اعلیٰ ہوں گے۔پس ہر کوئی اپنے آپ کو دیکھے اور ان معیاروں کو اونچا کرنے کی کوشش کرے اور اپنے فرائض یعنی ایک فرد جماعت کے عہدیدار کے لئے کہ اطاعت کرنی ہے اس کے بھی اعلیٰ نمونے دکھائیں۔یہ نمونے جب آپ دکھا رہے ہوں گے تو اپنی نسلوں کو بھی بچا رہے ہوں گے۔انہی نمونوں کو دیکھتے ہوئے آپ کی اگلی نسل نے بھی چلنا ہے اور انہیں نمونوں پر جو نسلیں قائم ہوں گی وہ آئندہ جب عہد یدار بنیں گی تو وہ وہی نمونے دکھا رہی ہوں گی جو اعلیٰ اخلاق کے نمونے ہوتے ہیں۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے میری اطاعت کی اس نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی ، جس نے میری نافرمانی کی اس نے اللہ کی نافرمانی کی۔جس نے حاکم وقت کی اطاعت کی ، اس نے میری اطاعت کی ،اور جو حاکم وقت کا نافرمان ہے وہ میرا نا فرمان ہے۔(صحیح مسلم كتاب الامارة - باب وجوب طاعة الامراء في غير معصية وتحريمها في المعصية امیر کی اور نظام جماعت کی اطاعت کے بارے میں یہ حکم ہے۔لوگ تو یہ کہہ دیتے ہیں کہ ہم خلیفہ کی اطاعت سے باہر نہیں ہیں ہمکمل طور پر اطاعت میں ہیں ، ہر حکم مانے کو تیار ہیں۔لیکن فلاں عہد یدار یا فلاں امیر میں فلاں فلاں نقص ہے اس کی اطاعت ہم نہیں کر سکتے۔تو خلیفہ وقت کی اطاعت اسی صورت میں ہے جب نظام کے ہر عہدیدار کی اطاعت ہے۔اور تب ہی اللہ کے رسول کی اور اللہ کی اطاعت ہے۔پھر ایک روایت میں آتا ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تنگدستی اور خوشحالی ، خوشی