خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 944
$2004 944 خطبات مسرور کیا فرماتا ہے کہ اپنے عہدیداروں کا چناؤ کس طرح کرو۔جو آیت میں نے تلاوت کی ہے اس میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یقینا اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ تم امانتیں ان کے حق داروں کے سپرد کیا کرو اور جب تم لوگوں کے درمیان حکومت کرو تو انصاف کے ساتھ حکومت کرو۔یقیناً بہت ہی عمدہ ہے جو اللہ تعالی تمہیں نصیحت کرتا ہے یقینا اللہ بہت سننے والا اور گہری نظر رکھنے والا ہے۔پہلی بات تو یہ کہ عہدیدار چننے والوں کو فرمایا کہ عہدے اُن کو دو، اُن لوگوں کو منتخب کرو جو اس کے اہل ہوں۔اس قابل ہوں کہ جس کام کے لئے انہیں منتخب کر رہے ہو وہ اس کو کر سکیں ، وقت دے سکیں۔یہ نہیں کہ چونکہ تمہارے تعلقات ہیں، اس لئے ضرور اس عہدے کے لئے اسی کو منتخب کرنا ہے یا ضرور اسی کو اس عہدے کے لئے ووٹ دینا ہے۔اس میں ایک بہت بڑی ذمہ داری چناؤ کرنے والوں پر منتخب کرنے والوں پر ڈالی گئی ہے۔اس لئے جو ووٹ دینے کے جماعتی قواعد کے تحت حقدار ہیں، ہرممبر تو ووٹ نہیں دیتا۔جو بھی ووٹ دینے کا حقدار ہے ان کو ہمیشہ دعا کر کے فیصلہ کرنا چاہئے کہ جو بہتر ہو اس کو ووٹ دے سکے۔یہاں ضمناً یہ بھی بتادوں کہ بعض دفعہ بعض افراد پر کسی وجہ سے پابندی لگی ہوتی ہے کہ وہ انتخاب میں حصہ نہیں لے سکتے۔اس لئے اس بارے میں ضد نہیں کرنی چاہئے کہ کیونکہ ہمارے نزد یک فلاں شخص ہی اس کام کے لئے موزوں تھا یا موزوں ہے اس لئے اسی کو ہم نے ووٹ دینا تھا اور اس کی اجازت دی جائے ورنہ ہم انتخاب میں شامل نہیں ہوتے۔یہ غلط طریق ہے۔اطاعت کا تقاضا یہ ہے اور نظام جماعت کے احترام کا تقاضا یہ ہے کہ اگر کوئی فیصلہ ہو گیا ہے کہ کسی شخص کو حصہ لینے کی اجازت نہیں ہے تو پھر اس بارے میں اصرار نہیں کرنا چاہئے۔یہاں ضمناً یہ بتا دوں، آپ لوگ پریشان ہو رہے ہوں گے۔بعض لوگ دنیا میں بھی اندازے لگانے شروع کر دیتے ہیں کیونکہ یہ خطبہ فرانس میں دیا جا رہا ہے اس لئے شاید یہاں کوئی ایسا واقعہ پیش آیا ہے۔تو واضح کر دوں کہ یہاں کوئی ایسا واقعہ پیش نہیں آیا۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے