خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 945
$2004 945 خطبات مسرور بڑی مخلص جماعت ہے اور یورپ میں میرے علم کے مطابق یہ واحد جماعت ہے جس میں پاکستانی اور غیر پاکستانی کی نسبت شاید 40:60 کی ہوگی اور جس طرح اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت میں دوسرے شامل ہورہے ہیں بعید نہیں کہ چند سالوں میں پاکستانی تھوڑے رہ جائیں اور غیر پاکستانی اور دوسری قوموں کے لوگ زیادہ ہو جائیں۔اور جو بھی اس وقت تک احمدی ہوئے ہیں۔غیر ملکیوں میں سے (غیر ملکیوں سے مراد ہے کہ فرانس میں بھی دوسرے ملکوں کے لوگ احمدی ہوئے ہیں ) یہ لوگ صرف نام کے احمدی نہیں ہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے پوری طرح نظام جماعت کا حصہ ہیں اور جلسہ سالانہ پر بھی بڑی ذمہ داری کے ساتھ بڑے شوق کے ساتھ اپنی ڈیوٹیاں دی ہیں۔جماعتی ترقی کے لئے انتہائی جذبات رکھنے والے لوگ ہیں۔اللہ تعالیٰ ان کو ایمان اور اخلاص میں اور بھی بڑھاتا چلا جائے۔تو بہر حال میں یہ بتا رہا تھا کہ فرانس میں کوئی ایسی بات نہیں ہوئی۔کسی اور مغربی ملک کے ایک شہر میں ایسے بعض سوال اٹھے تھے۔اور ترقی کرنے والی قو میں کیونکہ اپنی کمزوریوں سے آنکھیں بند نہیں کر لیا کرتیں اس لئے میں نے آج اس مضمون کو لیا ہے تاکہ کمزوروں کی اصلاح بھی ہو جائے اور نو مبائعین کی تربیت بھی ہو جائے اور ساتھ ہی ان کمزور لوگوں کے لئے جماعت کے لوگ دعا بھی کر سکیں تا کہ اللہ تعالیٰ ان کے ایمانوں میں مضبوطی عطا فرمائے۔تو بہر حال میں یہ بتا رہا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے تمام احباب جماعت پر جن کو حسب قواعد چناؤ کا انتخابات میں حق دیا گیا ہے یہ ذمہ داری ڈالی ہے کہ سوچ سمجھ کر اہل کو منتخب کرو۔اور یہ بھی ذہن میں رہے، منتخب کرنے والوں کے اور جو منتخب ہورہے ہیں ان کے بھی، بعض دفعہ لمبا عرصہ کر کے بعض ذہنوں میں باتیں آ جاتی ہیں کہ کوئی عہدہ جماعت میں کسی کا پیدائشی حق نہیں ہے، کوئی مستقل حق نہیں ہے۔اس لئے جو خدمت کا موقع ملتا ہے وہ اللہ کا فضل ہے اور اللہ کا فضل ہو تو اللہ تعالیٰ خود ہی خدمت کا موقع دے دیتا ہے۔خود کبھی خواہش نہیں کرنی۔اس لئے اشارۃ بھی کبھی کسی قسم کا یہ اظہار نہیں ہونا چاہئے کہ مجھے عہدیدار بناؤ۔نہ کسی کے دوست یا عزیز کو یہ حق