خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 88
$2004 88 خطبات مسرور ہوتی اور نہ خیالات اچھے ہوتے ہیں۔پاکستان میں تو میں نے دیکھا ہے کہ عموماً یہ لڑ کے تسلی بخش نہیں ہوتے۔تو ماؤں کو بھی کچھ ہوش کرنی چاہئے کہ اگر ان کی عمر پردے کی عمر سے گزر چکی ہے تو کم از کم اپنی بچیوں کا تو خیال رکھیں۔کیونکہ ان کام کرنے والے لڑکوں کی نظریں تو آپ نیچی نہیں کر سکتے۔یہ لوگ باہر جا کر تبصرے بھی کر سکتے ہیں اور پھر بچیوں کی ، خاندان کی بدنامی کا باعث بھی ہو سکتے ہیں۔ایک دفعہ حضرت خلیفہ اسیح الرابع رحمہ اللہ نے فرمایا تھا کہ احمدی لڑکے، خدام، اطفال کی ٹیم بنائی جائے جو اس طرح شادیوں وغیرہ پر کام کریں۔خدمت خلق کا کام بھی ہو جائے گا اور اخراجات میں بھی کمی ہو جائے گی۔بہت سے گھر ہیں جو ایسے بیروں وغیرہ کو رکھنا Afford ہی نہیں کر سکتے لیکن دکھاوے کے طور پر بعض لوگ بلا بھی لیتے ہیں تو اس طرح احمدی معاشرے میں باہر سے لڑ کے بلانے کا رواج بھی ختم ہو جائے گا۔خدام الاحمدیہ، انصار اللہ یا اگرلڑکیوں کے فنکشن ہیں تو لجنہ اماء اللہ کی لڑکیاں کام کریں۔اور اگر زیادہ ہی شوق ہے کہ ضرور ہی خرچ کرنا ہے، Serve کرنے والے لڑکے بلانے ہیں یا لوگ بلانے ہیں تو پھر مردوں کے حصے میں مرد آئیں۔یہاں میں نے دیکھا ہے کہ عورتیں بھی Serve کرتی ہیں عورتوں کے حصے میں تو وہاں پھر عورتوں کا انتظام ہونا چاہئے اور اس بارہ میں کسی بھی قسم کے احساس کمتری کا شکار نہیں ہونا چاہئے۔جیسا کہ میں نے پہلے بھی کہا تھا کہ بعض لوگ دیکھا دیکھی خرچ کر رہے ہوتے ہیں تو یہ ایک طرح کا احساس کمتری ہے۔کسی قسم کا احساس کمتری نہیں ہونا چاہئے۔اگر یہ ارادہ کر لیں کہ ہم نے قرآن کے حکم کی تعمیل کرنی ہے اور پاکیزگی کو بھی قائم رکھنا ہے تو کام تو ہو ہی جائے گا لیکن اس کے ساتھ ہی آپ کو ثواب بھی مل رہا ہوگا۔پھر فرمایا کہ زینت ظاہر نہ کرو۔اس کا مطلب یہی ہے کہ جیسا عورتوں کو حکم ہے میک اپ وغیرہ کر کے باہر نہ پھریں۔باقی قد کاٹھ، ہاتھ پیر، چلنا پھرنا، جب باہر نکلیں گے تو نظر آ ہی جائے گا۔یہ زینت کے زمرے میں اس طرح نہیں آتے کیونکہ اسلام نے عورتوں کے لئے اس طرح کی قید نہیں رکھی۔تو فرمایا کہ جو خود بخود ظاہر ہوتی ہو اس کے علاوہ۔باقی چہرے کا پردہ ہونا چاہئے اور یہی