خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 920 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 920

$2004 920 خطبات مسرور کہ دری بچھی ہوئی ہے یا کیا ہے تو اسی فرش پر نشان بھی پڑنے شروع ہو گئے اور آتے ہی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پاؤں دبانے شروع کر دیئے۔تو لوگوں نے ذرا ان کو گھورنا شروع کیا، ڈانٹنا شروع کیا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ: ” اس کو کیا خبر ہے جو کرتا ہے کرنے دو کچھ حرج نہیں۔(سیرت حضرت مسیح موعود مرتبه حضرت یعقوب على صاحب عرفانی صفحه 350) حضرت مسیح موعود کے پرانے خادموں میں سے ایک حضرت حافظ حامد علی صاحب مرحوم تھے۔وہ لمبے عرصے تک حضور کی خدمت کرتے رہے۔راوی بیان کرتے ہیں کہ ان کی طبیعت پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اخلاق کا جو اثر تھا وہ اتنا زیادہ تھا کہ اس کا بار بار ذکر کیا کرتے تھے کہ میں نے کبھی ایسا انسان نہیں دیکھا کہ بلکہ زندگی بھر حضرت صاحب کے بعد بھی کوئی انسان اخلاق کی اس شان کا نظر نہیں آتا تھا۔حافظ صاحب کہتے ہیں کہ مجھے ساری عمر کبھی حضرت مسیح موعود نے نہ جھڑ کا اور نہ بختی سے خطاب کیا۔بلکہ میں بڑا ہی ست تھا اور اکثر آپ کے ارشادات کی تعمیل میں دیر بھی کر دیا کرتا تھا۔اس کے باوجود سفر میں مجھے ساتھ رکھتے تھے۔(سیرت حضرت مسیح۔مرتبه حضرت یعقوب علی صاحب عرفانی صفحه 349- 350) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا جب تک یہ معمول تھا کہ آپ باہر اپنے دوستوں کے ساتھ کھانا کھایا کرتے تھے کبھی آپ نے یہ فرق نہیں کیا، یہ امتیاز نہیں کیا کہ کون آپ کے پاس بیٹھا ہوا ہے۔کسی کو محض اس وجہ سے اٹھانے کو نا جائز سمجھتے تھے کہ اس کے کپڑے پھٹے ہوئے ہیں یا وہ ان پڑھ زمیندار ہے یا کسی اور قوم کا آدمی ہے۔آپ کے دستر خوان پر جو شخص آزادی سے جہاں چاہتا تھا بیٹھ جاتا تھا۔ایک شخص خا کی شاہ نامی تھا ، گاؤں کا رہنے والا۔کہتے ہیں کہ اس کی عادت تھی کہ جب کھانالا یا جا تا تو وہ کو د کرلوگوں کو پھلانگتا ہوا آگے آکے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے قریب بیٹھ جاتا تھا۔تو اگر جگہ تنگ ہوتی تھی تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام خود ہی ایک طرف ہو کے کھل جاتے تھے اور اس کو بیٹھنے کی جگہ دے دیتے تھے اور کہتے ہیں کہ وہ دنیاوی لحاظ سے اتنا معمولی آدمی تھا کہ کوئی اس کا درجہ نہیں تھا۔