خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 921 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 921

$2004 921 مسرور پھر مہر حامد قادیان کے آرائیوں میں سے تھے جو اپنے خاندان میں پہلے تھے جو حضرت مسیح موعود کی بیعت میں داخل ہوئے۔تو بیمار ہو گئے ، اپنے ڈیرے پر۔جہاں ڈیرہ ہوتا ہے ایشیا میں پاکستان اور ہندوستان وغیرہ میں اکثر جو یہاں بیٹھے ہوئے ہیں وہ جانتے ہی ہیں وہاں بھینسیں بندھی ہوتی ہیں۔وہیں گھر ہوتا ہے وہیں سب کچھ ہوتا ہے گند بھی ان کا ہوتا ہے۔تو جب بیمار ہوئے تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ان کو پوچھنے جایا کرتے تھے اور وہاں ایک طرف گوبر اور گند وغیرہ اکٹھا ہوا ہوتا تھا۔اس کی بوبھی بڑی ہوتی تھی۔آپ کی طبیعت میں بڑی نفاست تھی۔لیکن اس کے باوجود کبھی اشارہ بھی یہ اظہار نہیں کیا کہ بو آ رہی ہے۔بلکہ باقاعدگی سے اس کی عیادت کے لئے تشریف لے جاتے تھے۔اور اس سے بڑی محبت اور دلجوئی کی باتیں کرتے تھے۔اور بہت دیر تک بیماری سے متعلق دریافت کرتے رہتے تھے۔پھر دوائیاں بتاتے تھے اور دعاؤں کی طرف توجہ دلاتے تھے۔تھاوہ بہت معمولی زمیندار بلکہ کہتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خاندان کی جو زمینداری تھی وہاں اس کے لحاظ سے تو وہ گویا آپ کی رعایا میں داخل تھا۔مگر کبھی آپ نے فخر نہیں کیا۔جس کے پاس جاتے اس کو اپنا عزیز بھائی سمجھتے۔تو یہ تھے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے نمونے اپنے آقا کی اقتدا میں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کمزور مخلوق کی دلداری کے لئے جونمو نے قائم کئے ہیں اور آج حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ان پر چل کر دکھایا ہے، یہ نمونے کبھی پرانے ہونے والے نہیں۔بلکہ آج بھی اگر اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو سمیٹنا ہے اور اس کی رضا حاصل کرنی ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے عشق کے دعوے کو سچا ثابت کر کے دکھانا ہے تو ان نمونوں پر چلنا ہوگا۔آج ہر احمدی کا دوسرے مسلمانوں کی نسبت زیادہ فرض بنتا ہے کہ اپنے اردگرد کے ماحول صلى الله میں ان کمزوروں اور بے سہاروں کو تلاش کریں۔اور ان سے حسن سلوک کریں اور آنحضرت ﷺ کے ساتھ عشق کے دعوے کو سچا کر کے دکھا ئیں اللہ تعالیٰ اس کی توفیق دے۔