خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 909 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 909

$2004 909 خطبات مسرور محبت کے جذبات کی جھلکیاں نظر آتی ہیں۔حضرت عبداللہ بن ابی اوفی بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم میں تکبر نام کوبھی نہ تھا۔نہ آپ ناک چڑھاتے تھے۔نہ اس بات سے برا مناتے اور بچتے کہ آپ بیواؤں اور مسکینوں کے ساتھ چلیں اور ان کے کام آئیں اور ان کی مدد کریں۔(مقدمہ سنن الدارمی، باب فی تواضع رسول اللہ ﷺ یعنی بے سہارا عورتوں اور مسکینوں اور غریبوں کی مدد کے لئے ہر وقت کمر بستہ رہتے اور اس میں خوشی محسوس کرتے۔اور یہ صرف ابتدائی زمانے کی بات نہیں ہے بلکہ جب فتوحات پر فتوحات ہو رہی تھیں تب بھی آپ کے اخلاق کے یہی اعلیٰ نمونے تھے۔یہی طریق تھے۔پھر عاجزوں اور مسکینوں کا آپ کی نظر میں کیا مقام تھا۔اس بارے میں حضرت انس روایت کرتے ہیں کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا کی کہ : "اے اللہ! مجھے حالت مسکینی میں زندہ رکھ اور مسکینی کی حالت میں موت دے۔اور مجھے قیامت کے روز زُمرہ مساکین میں اٹھا۔اس پر حضرت عائشہ نے عرض کیا کہ کیوں یا رسول اللہ ! (صلی اللہ علیہ وسلم ) اس پر آنحضور ﷺ نے فرمایا کہ مساکین اغنیاء سے چالیس سال پہلے جنت میں داخل ہوں گے“۔یعنی ان میں تکبر اور غرور اتنا نہیں ہوتا۔عاجزی اور انکساری ہوتی ہے اس لئے اللہ تعالیٰ ان کے درجات بڑھاتا ہے۔”اے عائشہ! کسی مسکین کو نہ دھتکارنا خواہ تجھے کھجور کا ایک ٹکڑا ہی کیوں نہ دینا پڑے۔اے عائشہ! مساکین کو اپنا محبوب رکھنا اور انہیں اپنے قرب سے نوازنا۔خدا تعالیٰ کے قیامت کے دن تجھے اپنے قرب سے نوازے گا۔(ترمذى كتاب الزهد باب ما جاء ان فقراء المهاجرين يدخلون الجنة قبل اغنيائهم) تو دیکھیں معاشرے کے بظاہر کمزور طبقے کے لئے کس قدر محبت اور درد کے جذبات ہیں۔لیکن یہ دعا کے الفاظ کہہ کر دنیا کی نظر میں اس کمزور طبقے کو کتنا اونچا مقام دلوا دیا ہے۔پھر دیکھیں یہ صرف دعایا اپنے گھر والوں کو نصیحت ہی نہیں تھی بلکہ اس پر عمل بھی کر کے دکھایا۔اور صحابہ کو یہ عمل، یہ نمونے نظر بھی آتے تھے۔حضرت عبداللہ بن ابی اوفی ہی بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تکبر نہ کرتے