خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 893 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 893

$2004 893 خطبات مسرور ہے جو اس کے چہرہ کی طرح چمک دمک رکھتا ہو اور وہ باغ کہاں ہے جس میں میرے دوست کی طرح بہار آئی ہو۔فرمایا کہ: ” اس مقام میں مجھ کو یاد آیا کہ ایک رات اس عاجز نے اس کثرت سے درود شریف پڑھا کہ دل و جان اس سے معطر ہو گیا۔اُسی رات خواب میں دیکھا کہ آب زلال کی شکل پر نور کی مشکیں اس عاجز کے مکان میں لئے آتے ہیں اور ایک نے ان میں سے کہا کہ یہ وہی برکات ہیں جو تو نے محمد کی طرف بھیجی تھیں۔صلی اللہ علیہ وسلم۔اور ایسا ہی عجیب ایک اور قصہ یاد آیا ہے کہ ایک مرتبہ الہام ہوا جس کے معنے یہ تھے کہ ملاء اعلیٰ کے لوگ خصومت میں ہیں یعنی ارادہ الہی احیاء دین کے لئے جوش میں ہے۔لیکن ہنوز ملاء اعلیٰ پر شخص محی کی تعیین ظاہر نہیں ہوئی۔اس لئے وہ اختلاف میں ہے یعنی اللہ تعالیٰ دین کو دوبارہ زندہ کرنے کے لئے جوش میں ہے لیکن وہ جو زندہ کرنے والا ہے اس کا تعین نہیں ہوا کہ وہ کون ہو گا اسی اثناء میں خواب میں دیکھا کہ لوگ ایک محی کی تلاش کرتے پھرتے ہیں اور ایک شخص اس عاجز کے سامنے آیا اور اشارے سے اس نے کہا صلى الله که هذَا رَجُلٌ يُحِبُّ رَسُوْلَ اللهِ یعنی یہ وہ آدمی ہے جو رسول اللہ ﷺ سے محبت رکھتا ہے۔جس نے دوبارہ دین کا احیاء کرنا ہے یہ وہ شخص ہے۔جو آنحضرت ﷺ سے محبت کرتا ہے اس سے زیادہ اور کوئی محبت نہیں کرتا۔اور اس قول سے یہ مطلب تھا کہ شرط اعظم اس عہدہ کی محبت رسول ہے، یعنی احیاء دین کے لئے جو شرط ہے وہ یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی محبت دلوں میں ہو۔” تو وہ اس شخص میں متحقق ہے۔اور اسی شخص میں پائی جاتی ہے۔اور ایسا ہی الہام متذکرہ بالا میں جو آل رسول پر درود بھیجنے کا حکم ہے سو اس میں بھی یہی سر ہے کہ افاضئہ انوار الہی میں محبت اہل بیت کو بھی نہایت عظیم دخل ہے۔یعنی اللہ تعالیٰ کے جو فیض ہیں ان کو حاصل کرنے کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اہل بیت سے بھی محبت ہونی چاہئے۔اور جو شخص حضرت احدیت کے مقربین میں داخل ہوتا ہے وہ انہی طیبین ، طاہرین کی وراثت پاتا ہے اور تمام علوم و معارف میں ان کا وارث ٹھہرتا ہے۔اس جگہ ایک نہایت روشن کشف یاد آیا اور وہ یہ ہے کہ ایک مرتبہ نماز مغرب کے بعد عین بیداری میں ایک