خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 890
$2004 890 خطبات مسرور فرمایا، جو اسلام کی تعلیم ہے ، اس کو مانا ہے، اس پر عمل کرنا ہے اور دنیا کوئی پرواہ نہیں کرنی۔آپ کے لئے جو غیرت اور محبت اور عشق ہمارے دلوں میں ہونا چاہئے اس کے مقابلے میں ہر دوسری چیز اور ہر دوسرا رشتہ اور ہر قسم کی غیرت جو بھی ہو اس کی کوئی حیثیت نہیں ہونی چاہئے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کو آنحضرت ﷺ کی اتنی غیرت تھی کہ آپ معمولی سی زیادتی بھی برداشت نہیں کر سکتے تھے۔آپ کو ایسی باتیں سن کر جس قد رغم اور تکلیف پہنچتی تھی وہ صلى الله نا قابل بیان ہے۔آپ ایسے شخص کی شکل بھی دیکھنا گوارا نہیں کرتے تھے جس نے آنحضرت ملے کے متعلق کوئی نازیبا بات کی ہو۔اور جب عیسائی مشنریوں نے آنحضرت ﷺ کے خلاف بعض بہتان گھڑے اس زمانے میں تو آپ کی انتہائی کرب اور تکلیف کی کیفیت ہوتی تھی۔آپ خود بھی اس کیفیت کا نقشہ کھینچتے ہوئے بیان فرماتے ہیں کہ: ”عیسائی مشنریوں نے ہمارے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف بے شمار بہتان گھڑے ہیں۔اور اپنے اس دجل کے ذریعے ایک خلق کثیر کو گمراہ کر کے رکھ دیا ہے۔میرے دل کو کسی چیز نے کبھی اتنا دکھ نہیں پہنچایا جتنا کہ ان لوگوں کے اس ہنسی ٹھٹھے نے پہنچایا ہے جو وہ ہمارے رسول پاک کی شان میں کرتے رہتے ہیں ان کے دلآ زار طعن و تشنیع نے جو وہ حضرت خیر البشر کی ذات والا صفات کے خلاف کرتے ہیں میرے دل کو سخت زخمی کر رکھا ہے۔خدا کی قسم اگر میری ساری اولاد، اور اولاد کی اولاد اور میرے سارے دوست اور میرے سارے معاون و مددگار میری آنکھوں کے سامنے قتل کر دیئے جائیں اور خود میرے اپنے ہاتھ اور پاؤں کاٹ دیئے جائیں اور میری آنکھ کی پتلی نکال پھینکی جائے اور میں اپنی تمام مرادوں سے محروم کر دیا جاؤں اور اپنی تمام خوشیوں اور تمام آسائشوں کو کھو بیٹھوں تو ان ساری باتوں کے مقابل پر بھی میرے لئے یہ صدمہ زیادہ بھاری ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایسے ناپاک حملے کئے جائیں۔پس اے میرے آسمانی آقا! تو ہم پر اپنی رحمت اور نصرت کی نظر فرما اور ہمیں اس ابتلا سے نجات بخش۔(آئینه کمالات اسلام روحانی خزائن جلد 5صفحه 15)