خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 876 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 876

$2004 876 خطبات مسرور جاؤ یہ بہر حال اس کا حق ہے، وہ مالک ہے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : ” کامل عابد وہی ہوسکتا ہے جو دوسروں کو فائدہ پہنچائے لیکن اس آیت میں اور بھی صراحت ہے اور وہ آیت یہ ہے ﴿قُلْ مَا يَعْبَوا بِكُمْ رَبِّي لَوْ لَا دُعَاؤُكُمْ یعنی ان لوگوں کو کہ دو کہ اگر تم لوگ رب کو نہ پکارو تو میرا رب تمہاری پرواہ ہی کیا کرتا ہے۔یا دوسرے الفاظ میں یوں کہہ سکتے ہیں کہ وہ عابد کی پرواہ کرتا ہے“۔(الحکم جلد 6 نمبر 24 مورخه /10 جولائی 1902 ، صفحہ 4)۔جو عبادت کرنے والا ہے اس کی بات مانتا ہے اس کے لئے کھڑا ہوتا ہے۔دشمن سے اس کو محفوظ رکھتا ہے۔اپنی ایک رؤیا کا ذکر کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں کہ : ”انسان کی پیدائش کی اصل غرض تو عبادت الہی ہے لیکن اگر وہ اپنی فطرت کو خارجی اسباب اور بیرونی تعلقات سے تبدیل کر کے بریکار کر لیتا ہے۔یعنی عبادت کی غرض تو یہی ہے لیکن اگر ماحول کا اثر اس پر پڑ گیا اور اللہ میاں نے جو اس کی فطرت میں چیز رکھی تھی اس کو بیکار کر لیا اور ضائع کر دیا ” تو خدا تعالیٰ اس کی پرواہ نہیں کرتا۔اسی کی طرف یہ آیت اشارہ کرتی ہے۔قُلْ مَا يَعْبُوا بِكُمْ رَبِّي لَوْ لَا دُعَاؤُكُمْ۔میں نے ایک بار پہلے بھی بیان کیا تھا کہ میں نے ایک رویا میں دیکھا کہ میں ایک جنگل میں کھڑا ہوں۔شرقاً غرباً اس میں ایک بڑی نالی چلی گئی ہے اس نالی پر بھیڑیں لٹائی ہوئی ہیں اور ہر ایک قصاب کے جو ہر ایک بھیڑ پہ مسلط ہے ہر ایک بھیڑ کے اوپر ایک قصائی کھڑا ہے۔ہاتھ میں چھری ہے جو انہوں نے ان کی گردن پر رکھی ہوئی ہے اور آسمان کی طرف منہ کیا ہوا ہے کہ ان کے بارے میں کیا حکم ہے۔میں ان کے پاس ٹہل رہا ہوں۔میں نے یہ نظارہ دیکھ کر سمجھا کہ یہ آسمانی حکم کے منتظر ہیں۔تو میں نے یہی آیت پڑھی قُلْ مَا يَعْبُوا بِكُمْ رَبِّي لَوْ لَا دُعَاؤُكُمْ ﴾ (سورة الفرقان آیت :78) یہ سنتے ہی ان قصابوں نے فی الفور چھریاں چلا دیں۔یعنی ان کی گردنوں پر چھریاں پھیر دیں، ذبح کر دیا۔اور یہ کہا کہ تم ہو کیا ؟ آخر گوہ کھانے والی بھیڑیں ہی ہو“۔گند کھانے والی بھیڑیں ہی ہونا۔