خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 869 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 869

خطبات مسرور 869 اور قرآن کریم کو صحیح طور پر سمجھ کر اس کی تفسیر ہمارے سامنے پیش فرمائی ہے۔$2004 اس لئے ہمیں اس زمانے میں ان احکامات کو سمجھنے کے لئے اور ان پر پابندی اختیار کرنے کے لئے اُسی طرح عمل کرنا ہوگا اور انہیں لائنوں پر چلنا ہو گا جو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہمیں سمجھائی ہیں۔اور انہیں رستوں پر چل کے ہم نیکیوں اور عبادت کے طریقوں پر قائم بھی رہ سکتے ہیں۔آپ فرماتے ہیں کہ : "چونکہ انسان فطرتاً خدا ہی کے لئے پیدا ہوا جیسا کہ فرمایا مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونَ﴾ (الذاريات (57) اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس کی فطرت ہی میں اپنے لئے کچھ نہ کچھ رکھا ہوا ہے اور مخفی در مخفی اسباب سے اسے اپنے لئے بنایا ہے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے تمہاری پیدائش کی اصل غرض یہ رکھی ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو۔مگر جو لوگ اپنی اس اصلی اور فطری غرض کو چھوڑ کر پروانوں کی طرح زندگی کی غرض صرف کھانا پینا اور سور ہنا سمجھتے ہیں وہ خدا تعالیٰ کے فضل سے دور جا پڑتے ہیں اور خدا تعالی کی ذمہ داری ان کے لئے نہیں رہتی۔وہ زندگی جو ذمہ داری کی ہے یہی ہے کہ مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُوں “۔یعنی اللہ تعالی کی ذمہ داری بھی اس وقت ہے جب اس کے احکامات پر عمل کرو گے اور اس کی عبادت کرو گے۔66 فرمایا کہ وہ زندگی جو ذمہ داری کی ہے یہی ہے کہ مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالأَنسَ اللَّا لیغبُدُون پر ایمان لا کر زندگی کا پہلو بدل لے۔موت کا اعتبار نہیں ہے تم اس بات کو سمجھ لو کہ تمہارے پیدا کرنے سے خدا تعالیٰ کی غرض یہ ہے کہ تم اس کی عبادت کرو اور اس کے لئے بن جاؤ۔دنیا تمہاری مقصود بالذات نہ ہو۔میں اس لئے بار بار اس امر کو بیان کرتا ہوں کہ میرے نزدیک یہی ایک بات ہے جس کے لئے انسان آیا ہے اور یہی بات ہے جس سے وہ دُور پڑا ہوا ہے۔میں یہ نہیں کہتا کہ تم دنیا کے کاروبار چھوڑ دو، بیوی بچوں سے الگ ہو کر کسی جنگل یا پہاڑ میں جا بیٹھو۔اسلام