خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 854 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 854

$2004 854 خطبات مسرور جلدی ان کو جا کے ملیں۔اس کے لئے ایک دفعہ انہوں نے نبی ہی سے دریافت کیا کہ ہم میں سے سب سے پہلے آپ سے کون ملے گا۔اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ سب سے لمبے ہاتھوں والی۔پھر ان ازواج مطہرات نے اپنے ہاتھ ناپنے شروع کر دیئے۔حضرت سودہ رضی اللہ عنہا سب سے لمبے ہاتھوں والی تھیں۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ہمیں اس بات کا بعد میں علم ہوا کہ لمبے ہاتھوں سے مراد کیا تھی۔اس سے مراد یہ تھی کہ کون کثرت سے زیادہ صدقہ دیتا ہے۔کیونکہ وہی صدقہ دیا کرتی تھیں اور صدقے کو پسند کرتی تھیں۔اور وہی ازواج میں سب سے پہلے آنحضور ﷺ سے جاملیں۔صلى الله (بخاری کتاب الزكوة باب فضل صدقة الشحيح الصحيح) تو آپ نے کھل کے یہ نہیں بتایا کہ صدقہ و خیرات کرنے والی سب سے پہلے مجھ سے ملے گی بلکہ اشارہ بتا دیا کیونکہ جو فطرتاً زیادہ صدقہ و خیرات کرنے والی ہے اسی نے آگے ملنا ہے۔یہ ہر ایک کی اپنی اپنی فطرت ہوتی ہے۔بعض کم کرتے ہیں بعض زیادہ کرتے ہیں۔گو کہ ازواج مطہرات بہت زیادہ صدقہ کرنے والی تھیں۔ایک روایت میں آتا ہے حضرت انس بن مالک بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ صدقہ خدا کے غضب کو ٹھنڈا کرتا ہے اور برائی کی موت کو دور کرتا ہے۔(ترمذی کتاب الزكواة باب ما جاء فی فضل الصدقة) تو کسی چیز کو حاصل کرنے کے لئے نہیں بلکہ گناہوں کی پکڑ سے بچنے کے لئے بھی صدقہ و خیرات بہت ضروری ہے۔ایک روایت میں آتا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ صدقہ دے کر آگ سے بچو خواہ آدھی کھجور خرچ کرنے کی ہی استطاعت ہو۔(بخاری کتاب الزكـوـة بـا ب اتقوا النار ولو بشق تمرة) یعنی معمولی سا صدقہ بھی ہو وہ بھی دو تا کہ اللہ میاں تمہارے گناہ بخشے۔اور صدقہ اسی طرح ہے کہ اللہ تعالیٰ کی خاطر خالص ہو کر اس کی رضا کی خاطر دینا چاہئے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : ” تمام مذاہب کے درمیان یہ