خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 853 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 853

853 $2004 خطبات مسرور تو یہ آنحضرت ﷺ کی بات سن کر کہ صدقہ ضرور دینا چاہئے ، صحابہ اس کوشش میں رہا کرتے تھے اور بعض دفعہ غلط لوگوں کو بھی صدقے دے دیا کرتے تھے۔ان کو یہ فکر نہیں ہوتی تھی کہ ہم نے اس سے کچھ حاصل کرنا ہے۔فکر یہ ہوتی تھی کہ اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنی ہے۔رات کو بھی اس لئے نکلتے تھے تاکہ کسی کو پتہ نہ لگے اور یہ احساس نہ ہو کہ صدقہ یا مال خرچ دکھاوے کے لئے کیا جا رہا ہے۔بلکہ خالصتا اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لئے یہ کام کرنا چاہتے تھے۔تو اس کی یہ پریشانی دیکھ کر اللہ تعالیٰ نے اس کو تسلی دینے کے لئے فرمایا کہ یہ نہ سمجھو کہ اگر تمہارا صدقہ صحیح لوگوں تک نہیں پہنچا تو تم کو اس کا اجر نہیں ملے گا۔بلکہ اس کا بھی اجر ہے۔کیونکہ ہوسکتا ہے اس وجہ سے جن لوگوں کے پاس تمہارا صدقہ گیا ہے ان کی اصلاح ہو جائے۔تو اللہ تعالیٰ اپنی خاطر کئے گئے کسی کام کو بھی بغیر اجر کے نہیں چھوڑتا۔ایک روایت میں آتا ہے۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ آنحضور ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص نے کتا دیکھا جو شدت پیاس سے مٹی چاٹ رہا تھا، اس شخص نے اپنا موزا (جراب ) اتارا اور اس سے اس کے سامنے پانی انڈیلنے لگا۔یہاں تک کہ اس نے اس کو سیر کر دیا۔اس کی اچھی طرح پیاس بجھا دی۔اس پر خدا تعالیٰ نے اپنے بندے کی قدر دانی کی تو اس کو جنت میں داخل کر دیا۔(مسند احمد بن حنبل جلد دوم صفحه 521- مطبوعه (بيروت) طمع اور لالچ کے بغیر ضرورت اور رحم کے جذبات کے پیش نظر جب کتے کو بھی پانی پلایا گیا تو اللہ تعالیٰ نے اس کا بھی اجر دیا۔اور یہ سب اللہ تعالیٰ کے رحم کے نظارے ہیں۔جیسا بندہ اس کی مخلوق سے کرتا ہے اللہ تعالیٰ بھی وہی سلوک کرتا ہے۔پھر صدقات کے بارے میں ہی ازواج مطہرات کے بارے میں ایک بڑی پیاری روایت الله آتی ہے۔ان کو بھی کسی طرح خواہش ہوتی تھی کہ آنحضرت ﷺ کا زیادہ سے زیادہ قرب حاصل کیا جائے اور پھر یہ بھی خواہش تھی کہ اگر آنحضرت ﷺ کی وفات ان سے پہلے ہو جائے تو ہم بھی جلدی