خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 852 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 852

852 $2004 خطبات مسرور تو یہ سب کچھ اس لئے ہے کہ قربانی کا جذبہ ابھرے، اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کی کوشش ہو۔صحابہ کا اس میں کیا رنگ ہوا کرتا تھا، ان کے بھی عجیب نظارے نظر آتے ہیں۔ایک روایت میں آتا ہے ، حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ایک شخص نے کہا میں ضرور صدقہ کروں گا۔چنانچہ وہ اپنے صدقے کا مال لے کر گھر سے نکلا اور ایک چور کے ہاتھ پر رکھ دیا (رات کو اس کو پتہ نہیں لگا اور چور کے ہاتھ پر رکھ دیا۔لوگ صبح اس طرح کی آپس میں باتیں کر رہے تھے کہ ایک چور کو صدقہ دیا گیا ہے۔اس پر اس شخص نے کہا: اے اللہ ! سب تعریف کا تو ہی مستحق ہے۔میں ضرور صدقہ کروں گا۔چنانچہ وہ اپنے صدقہ کا مال لے کر نکلا اور پھر اس رات بھی ایک عورت کو دیکھا جو بد کار عورت تھی ، اس کو وہ صدقہ دے دیا۔لوگوں نے صبح پھر اس طرح کی باتیں کیں۔کہ آج رات ایک زانیہ عورت کوصدقہ دیا گیا۔اس پر اس شخص نے کہا اے اللہ ! سب تعریف کا تو ہی مستحق ہے، کیا میں نے ایک زانیہ کو صدقہ دے دیا ہے، اب میں دوبارہ ضرور صدقہ کروں گا۔پس وہ صدقہ کا مال لے کر نکلا اور اب کی دفعہ پھر غلط آدمی تک پہنچ گیا اور ایک اچھے بھلے امیر آدمی ، مالدار آدمی ، کھاتے پیتے آدمی کو صدقہ دے دیا۔لوگ پھر صبح اس طرح کی باتیں آپس میں کر رہے تھے کہ آج رات ایک مالدار شخص کو صدقہ دیا گیا ہے۔اس پر اس شخص نے کہا سب تعریف کا تو ہی مستحق ہے، پہلے تو میں نے ایک چور کو صدقہ دیا، پھر ایک زانیہ کو اور پھر مالدار شخص کو۔وہ اس بات پر بہت فکر مند تھا اور افسوس کر رہا تھا تو اس کے پاس ایک شخص آیا اور اس کو کہا گیا کہ جہاں تک تیرے چور کو صدقہ کرنے کا تعلق ہے تو ممکن ہے کہ وہ صدقہ لینے کے بعد چوری سے باز آ جائے اور جہاں تک زانیہ کا تعلق ہے تو اس بات کا امکان ہے کہ وہ زنا سے رک جائے۔اور جہاں تک غنی کا تعلق ہے تو اس بات کا امکان ہے کہ وہ تیرے اس فعل سے عبرت حاصل کرے اور اس مال میں سے جو اللہ تعالیٰ نے اسے عطا کیا ہے خرچ کرنے لگ جائے۔(بخاری کكتاب الزكواة باب اذا تصدق على غنى وهولا يعلم)