خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 849 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 849

849 $2004 خطبات مسرور بھی دیتا ہوں ، بیٹیاں بھی دیتا ہوں، بعض کو دونوں جنسیں دیتا ہوں اور بعض بانجھ ہوتے ہیں ان کے ہاں کچھ بھی اولاد نہیں ہوتی۔اس لئے وہ بات میری طرف منسوب نہ کریں جو میں نے کہی نہیں اور جو اللہ تعالیٰ کے واضح حکم کے خلاف ہے۔اس لئے ایک تو غور سے بات کو سننا چاہئے اور پھر سوچ سمجھ کر تصدیق کروا کر اگر لکھنا ہو تو خط میں لکھا کریں۔پھر یہ کہ چندہ دینے کے لئے نام رکھ دیں، یہ بھی کوئی ضروری نہیں ہے۔جو اپنی خوشی سے اپنے بچوں کی طرف سے چندہ دینا چاہتے ہیں وہ از طرف بچگان لکھ کر چندہ دے سکتے ہیں۔اور یہ جو بات ہے یہ بھی خاص صرف تحریک جدید ، وقف جدید یا کسی خاص قسم کے چندے کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا فضل اور سلوک نہیں ہے۔مختلف لوگوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا مختلف سلوک ہے۔کچھ دن ہوئے مجھے کسی نے لکھا کہ ہمارے ہاں اولا د نہیں ہو رہی تھی تو علاج کروانے کی کوشش کی۔جو علاج تھا وہ کافی مہنگا تھا، ہزاروں یورو (Euro) کا خرچ اس پہ آرہا تھا تو خاوند نے کہا میں اتنی بڑی رقم علاج پر خرچ نہیں کروں گا، بہتر ہے کہ مسجد کے لئے چندہ دے دیں تو اللہ تعالیٰ شاید اس کی برکت سے ہی ہمیں اولا د دیدے۔تو انہوں نے (دونوں میاں بیوی نے ) یہ رقم مسجد کے لئے دے دی۔اور اب اللہ تعالیٰ نے انہیں کئی سالوں کے بعد اولاد کی خوشخبری سے نوازا ہے۔اور پھر ایک نہیں اب ٹونز (Twins) کی امید ہے تو یہ بھی اللہ تعالیٰ کا اپنے بندوں کے ساتھ سلوک ہے۔اللہ تعالیٰ خیریت سے ان کو بچے عطا فرمائے۔یہ جو اپنے بندوں سے خدا تعالیٰ کا سلوک ہے، کسی کی کوئی ادا اسے پسند آ جاتی ہے اور فضل فرماتا ہے، کسی کی کوئی بات پسند آ جاتی ہے۔کبھی شرط لگا کر اس پر پکے نہیں ہو جانا چاہئے۔کیونکہ بعض دفعہ یہ بھی ایمان کے لئے ٹھوکر کا باعث بن جاتا ہے۔اب ان لوگوں کا ایمان بھی دیکھیں، یہ جو میاں بیوی تھے۔انہوں نے یہ نہیں کہا کہ ہم مسجد کا چندہ دیں گے تو ہمارے ہاں ضرور اولا د ہو جائے گی۔بلکہ انہوں نے یہ کہا کہ چندہ دو اگر اللہ تعالیٰ نے اولا د دینی ہوگی تو ویسے بھی بغیر علاج کے دیدے گا۔