خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 834 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 834

$2004 834 خطبات مسرور کرنا ہی سب سے بڑا علاج ہے۔سوائے اس کے کہ ایسی صورت ہو کہ جس میں جماعتی خبر ہو یا جماعت کے خلاف کوئی بات سنیں، جماعتی نقصان کا احتمال ہو اور کوئی ایسی بات پتہ لگے جیسا کہ میں نے کہا ، جس سے جماعتی نقصان ہونے کا خدشہ ہو تو پھر متعلقہ عہد یداروں کو، یا مجھے تک یہ بات پہنچائی جاسکتی ہے۔ادھر ادھر باتیں کرنے کا پھر بھی کوئی حق نہیں اور کوئی ضرورت نہیں۔اس سے برائی پھیلتی ہے۔اگر مثلاً اس غلطی کرنے والے شخص کی اصلاح کی کوشش کامیاب نہیں ہوئی یا جھوٹ بول کر غلط بیانی کر کے وقتی طور پر اس نے اپنی جان بچالی تو دوسرے بھی جن کی طبیعت میں کمزوری ہے وہ بھی بعض دفعہ ایسی باتیں کر جائیں گے، اپنی کمزوریاں ظاہر کرنے لگ جائیں گے۔کیونکہ ان کے ذہنوں میں بھی یہ ہوتا ہے کہ فلاں شخص کی غلطی پکڑ کے اس عہدیدار نے یا اس شخص نے کیا کر لیا جو ہمارے خلاف ہو جائے گا۔اس شخص کا کیا بگڑ گیا ہے۔زبان کا مزہ لینے کے لئے بعض باتیں کر لو بعد میں دیکھی جائے گی۔اس قسم کی باتیں برائیاں پھیلاتی ہیں، حجاب اٹھ جاتے ہیں۔تو بہر حال یہ تو ایسے لوگوں کی سوچ کا قصور ہے، تقویٰ کی کمی ہے لیکن جس شخص کو نظام کے خلاف کوئی بات پتہ چلے، اس کا بہر حال یہ فرض بنتا ہے کہ ایسی بات صرف نظام جماعت کو ہی بتائے اور ادھر ادھر نہ کرے۔کیونکہ بعض دفعہ ایسا بھی ہو جاتا ہے کہ سننے والے کو کوئی غلطی لگ جاتی ہے۔بعض دفعہ بات کرنے والا با وجود جماعتی اخلاص کے وقتی جوش میں کوئی ایسی بات کہہ جاتا ہے جس پر بعد میں اسے بھی شرمندگی ہوتی ہے اور ایک دفعہ بات سن کے آگے پھیلا دینا مزید شرمندگی کا باعث بنتا ہے۔بعض دفعہ صحیح الفاظ کسی نے ادا نہیں کئے ہوتے تو اس وجہ سے اس بات کی بہت زیادہ بھیانک شکل نظر آنے لگ جاتی ہے۔تو بہر حال کوئی بھی ایسی کمزوری ہو یا تو اس کو علیحدگی میں سمجھا دیا جائے یا جماعتی عہد یدار کو بتا دیا جائے کہ اس طرح کی بات میں نے سنی ہے آپ تحقیق کر لیں۔لیکن کسی کی کسی قسم کی بات کو کبھی بھی پھیلانا نہیں چاہئے جس سے کسی کی عزت پر حرف آتا ہو۔ہوسکتا ہے کسی وقت یہی غلطی آپ سے بھی ہو جائے اور پھر اس طرح چرچا ہونے لگے، بدنامی ہو تو کتنی