خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 825
825 $2004 خطبات مسرور اہتمام سے پکاتے ہیں۔تو اگر یہ اہتمام اس سوچ کی وجہ سے ہو کہ اللہ اور اس کے رسول کا حکم ہے کہ عید سمجھ کے مناؤ تو کھانے کے ساتھ ساتھ پھر ثواب ملتا چلا جائے گا۔پھر جمعہ پر آنے والوں کو آپ ﷺ نے ایک اور پیارے انداز میں ترغیب بھی دلائی ہے۔روایت میں آتا ہے ابن شہاب روایت کرتے ہیں کہ انہیں ابو عبدالله آغر نے بتایا کہ انہوں نے حضرت ابو ہریرہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب جمعہ کا دن ہوتا ہے مسجد کے ہر دروازے پر فرشتے ہوتے ہیں وہ مسجد میں پہلے آنے والے کو پہلا لکھتے ہیں اور اس طرح وہ آنے والوں کی فہرست تیار کرتے رہتے ہیں یہاں تک کہ جب امام خطبہ دے کر بیٹھ جاتا ہے تو وہ اپنے رجسٹر بند کر دیتے ہیں اور ذکر الہی سننے میں لگ جاتے ہیں۔(مسلم کتاب الجمعة ـ باب فضل التهجير يوم الجمعة) تو پہلے آنا بھی ثواب کا کام ہے کہ جلدی آنے کا حکم ہے اللہ تعالیٰ کا کہ جلدی نماز کی طرف آیا کرو۔کیونکہ شیطان تو اسی کوشش میں لگا ہوا ہے کہ کسی طرح رو کے اور اگر اس کی کوششوں کے باوجود مسجد میں آنے کی طرف توجہ رہتی ہے، جمعہ پڑھنے کی طرف توجہ رہتی ہے جو اس زمانے میں اور بہت سی مصروفیات کی وجہ سے اور زیادہ اہمیت اختیار کر گئی ہے، تو آنے کی وجہ سے ہی وہ ثواب کا حق دار ٹھہر رہا ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ کے اس حکم پر عمل کرنے کی وجہ سے بہت سارا ثواب کا حصہ لے رہا ہوتا ہے۔اس جلدی آنے کے بارے میں ایک اور روایت میں اس طرح آتا ہے۔عَلْقَمَه روایت کرتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کے ہمراہ جمعہ کے لئے گیا۔انہوں نے دیکھا کہ ان سے پہلے تین آدمی مسجد پہنچ چکے تھے۔انہوں نے کہا چوتھا میں ہوں۔پھر کہا خیر چوتھا ہونے میں کوئی دوری نہیں۔پھر کہا میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ لوگ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے حضور جمعوں میں آنے کے حساب سے بیٹھے ہوں گے یعنی پہلا ، دوسرا، تیسرا پھر انہوں نے کہا چوتھا اور چوتھا بھی اللہ تعالیٰ کے دربار میں بیٹھنے کے لحاظ سے کوئی دور نہیں ہے۔(سنن ابن ماجه - کتاب اقامة الصلواة والسنة فيها ـ باب ما جاء فى التهجير الى الجمعة) تو جمعہ پر جلدی آنے کے لئے صحابہ کی یہی کوشش ہوتی تھی اور یہ شوق ہوتا تھا۔احمدیوں کو