خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 783
$2004 783 خطبات مسرور والسلام سے اس بارے میں سوال ہوا کہ آدمی جب اعتکاف میں ہو تو اپنے دنیوی کا روبار سے متعلق بات کر سکتا ہے یا نہیں ؟۔آپ نے فرمایا کہ سخت ضرورت کے سبب کر سکتا ہے اور بیمار کی عیادت کے لئے اور حوائج ضروریہ کے واسطے باہر جاسکتا ہے۔فرمایا کہ سخت ضرورت کے تحت۔یہ نہیں ہے کہ جیسا میں نے پہلے کہا کہ روزانہ کوئی وقت مقرر کر لیا، فلاں وقت آجایا کرو اور بیٹھ کر کاروباری باتیں ہو جایا کریں گی۔اگر اتفاق سے کوئی ایسی صورت پیش آگئی ہے کسی سرکاری کاغذ پر دستخط کرنے ہیں، تاریخ گزر رہی ہے یا کسی ضروری معاہدے پر دستخط کرنے ہیں ، تاریخ گزر رہی ہے یا اور کوئی ضروری کاغذ ہے، ایسے کام تو ہو سکتے ہیں۔لیکن ہر وقت ، روزانہ نہیں۔(بدر 21/ فروری 1907ء صفحہ5) یہ جو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ بیمار کی عیادت کے لئے جاسکتے ہیں۔بعض لوگوں کا خیال ہے کہ نہیں نکلنا چاہئے۔یہ بھی عین آنحضرت ﷺ کی تعلیم کے مطابق ہے۔حضرت عائشہ روایت کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ بیمار پرسی کے لئے جاتے اور آپ اعتکاف میں ہوتے۔پس آپ قیام کئے بغیر اس کا حال پوچھتے۔“ (ابو داؤد ـ كتاب الصيام باب المعتكف يعود المريض۔پھر اسی طرح ابن عیسی کی ایک ایسی ہی روایت ہے۔تو تیمار داری جائز ہے لیکن کھڑے کھڑے گئے اور آگئے۔یہ نہیں کہ وہاں بیٹھ کر ادھر ادھر کی باتوں میں وقت ضائع کرنا شروع کر دیا یا باتیں بھی شروع ہو گئیں۔اور یہ بھی اس صورت میں ہے (وہاں مدینے میں بڑے قریب قریب گھر بھی تھے ) کہ قریب گھر ہوں اور کسی خاص بیمار کو آپ نے پوچھنا ہو، اگر ہر بیمار کے لئے اور ہر قریبی کے لئے ، بہت سارے تعلق والے ہوتے ہیں آپ جانے لگ جائیں تو پھر مشکل ہو جائے گا اور یہاں فاصلے بھی دور ہیں، مثلاً جائیں تو آنے جانے میں ہمیں دو گھنٹے لگ جائیں۔اور اگر ٹریفک میں پھنس جائیں تو اور زیادہ دیر لگ جائے گی۔یہ قریب کے گھروں میں پیدل جہاں تک جاسکیں اس کی اجازت ہے، ویسے بھی جانے کے لئے جو جماعتی نظام ہے وہاں سے اجازت لینی ضروری ہے۔