خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 782
$2004 782 خطبات مسرور ہاتھ اندر داخل ہوتا ہے جس میں مٹھائی اور ساتھ پر چی ہوتی ہے کہ میرے لئے دعا کرو یا نمازی سجدے میں پڑا ہوا ہے اوپر سے پر دہ خالی ہوتا ہے تو اوپر سے کاغذ آ کر اس کے اوپر گر جاتا ہے (ساتھ نام ہوتا ہے ) کہ میرے لئے دعا کرو۔یا ایک پر اسرار آواز پردے کے پیچھے سے آتی ہے آہستہ سے کہ میں فلاں ہوں میرے لئے دعا کرو۔یہ سب غلط طریقے ہیں۔پھر شام کو افطاریوں کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔افطاریاں بڑی بڑی آتی ہیں ٹرے لگ کے ، بھر کے، جو معتکف تو کھا نہیں سکتا لیکن مسجد میں ایک شور بھی پڑ جاتا ہے اور گند بھی ہورہا ہوتا ہے۔اور پھر جولوگ افطاریاں بھیج رہے ہوتے ہیں۔بعض بڑے فخر سے بتاتے بھی ہیں کہ آج میں نے افطاری کا انتظام کیا ہوا تھا، کیسی تھی؟ کیا تھا؟ یاد دوسروں کو بتارہے ہیں کہ یہ کچھ تھا۔میری افطاری بڑی پسند کی گئی۔پھر اگلے دن دوسرا شخص اس سے بڑھ کر افطاری کا اہتمام کرنے کی کوشش کرتا ہے۔تو یہ سب فخر و مباہات کے زمرے میں چیزیں آتی ہیں۔بجائے اس کے کہ خدمت کی جائے یہ دکھاوے کی چیزیں بن جاتی ہیں۔اس لئے یا تو اعتکاف بیٹھنے والا ، اپنے گھر سے سحری اور افطاری منگوائے یا جماعتی نظام کے تحت مہیا ہو۔ناموں کے ساتھ ہر ایک کے لئے علیحدہ علیحدہ افطاریاں آنی غلط طریق کار ہے۔یہ کہیں بھی جماعت کی مساجد میں نہیں ہونا چاہئے۔کیونکہ اس سے آگے اور بدعتیں بھی پھیلتی چلی جائیں گی۔ربوہ میں بھی دارالضیافت سے، جو مرکزی مساجد میں بیٹھے ہوتے ہیں ان کے لئے اور میرا خیال ہے دوسری جگہوں پر بھی۔(اگر نہیں ہے تو جانی چاہئیں ) افطاری وسحری وہیں سے تیار ہو کر جاتی ہے اور سارے ایک جگہ بیٹھ کے کھا لیتے ہیں۔پھر بعض لوگ اعتکاف بیٹھ کر بھی کچھ وقت کے لئے دنیا داری کے کام کر لیتے ہیں۔مثلاً بیٹے کو کہ دیا، یا اپنے کام کرنے والے کارندے کو کہہ دیا کہ کام کی رپورٹ فلاں وقت مجھ کو دے جایا کرو۔کاروباری مشورے لینے ہوں تو فلاں وقت آجایا کرو کا روباری مشورے دیا کروں گا۔یہ طریق بھی غلط ہے۔سوائے اشد مجبوری کے یہ کام نہیں ہونا چاہئے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ