خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 777 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 777

$2004 777 خطبات مسرور جولوگ ہیں، جمعوں پر آنے والے یا عیدوں پر آنے والے، ان میں سے بھی اکثریت ایسی ہوتی ہے جو بڑے ذوق شوق سے ان دنوں میں مسجد میں آرہے ہوتے ہیں۔لیکن جیسا کہ میں نے کہا کہ مومنوں کی جماعت کی نیکیوں میں بڑھنے کی دوڑ اللہ تعالیٰ کے احکامات پر عمل کرنے کی کوشش عارضی نہیں ہونی چاہئے۔ان نیکیوں کو اور ان کوششوں کو اب انشاء اللہ تعالیٰ سب کو جاری رکھنے کی کوشش اور دعا کرنی چاہئے۔جن کو اس رمضان میں یہ نیکیاں کرنے کی توفیق ملی۔ایک روایت میں آتا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ رمضان کے مہینہ کا ابتدائی عشرہ رحمت ہے اور درمیانی عشرہ مغفرت کا موجب ہے اور آخری عشرہ جہنم سے نجات دلانے والا ہے۔(صحیح ابن خزيمة كتاب الصيام باب فضل شهر رمضان) رحمت حاصل کرنے کے پہلے دس دن بھی گزر گئے اور دوسرا عشرہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے مغفرت کا عشرہ قرار دیا ہے۔اللہ تعالیٰ اس میں اپنی طرف بڑھنے والوں کو اپنی مغفرت کی چادر میں لپیٹتا ہے۔اس لئے ہر ایک کو کوشش کرنی چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کی اس مغفرت کی چادر میں ان دنوں میں لیٹے اللہ تعالیٰ کی بے انتہا رحمت ہوئی ہے، ہمیں موقع ملا ہے کہ اس سال پھر رمضان کی برکتوں سے فائدہ اٹھا سکیں۔اور یہ اسی کا فضل اور اسی کی رحمت ہے اور اسی کا انعام ہے کہ ہم اب دوسرے عشرے سے گزر رہے ہیں۔اس میں جتنی زیادہ سے زیادہ عبادت کر کے اس کے آگے جھک کر ، اس سے بخشش مانگتے ہوئے اس کے بتائے ہوئے راستوں پر چلنے کی کوشش کریں گے ، اس کے بندوں کے حقوق ادا کرنے کی کوشش کریں گے، اتنی زیادہ اس کی مغفرت ہمیں اپنی لپیٹ میں لیتی چلی جائے گی۔اتنے زیادہ اس کی رحمت کے دروازے ہم پر وا ہوتے چلے جائیں گے، ہم پر کھلتے چلے جائیں گے۔جتنے زیادہ ہم نیکیوں پر قائم ہوتے چلے جائیں گے، اتنا ہی زیادہ ہمیں نیکیوں پر قائم رکھنے کے لئے اللہ تعالیٰ ہماری مدد فرماتا چلا جائے گا۔اور جتنی زیادہ ہمیں نیکیوں پر قائم ہونے کی طاقت پیدا ہوتی چلی جائے گی اور پھر جب اس طرح اللہ تعالیٰ کی مدد چاہتے ہوئے اس کی مغفرت طلب کرتے ہوئے آخری عشرے میں ہم داخل ہوں گے تو فرمایا یہ تمہیں آگ سے نجات دلانے کا