خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 770 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 770

770 $2004 خطبات مسرور ہرگز نا مراد نہیں رہتا۔اور علاوہ کامیابی کے ایمانی قوت اس کی ترقی پکڑتی ہے اور یقین بڑھتا ہے۔ايام الصلح، روحانی خزائن جلد نمبر 14 صفحه 236-237) ایک روایت میں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی مجلس سے اٹھتے تو آپ دعا کرتے ( یہ بڑی جامع دعا ہے) اے میرے اللہ ! تو ہمیں اپنا خوف عطا کر، جسے تو ہمارے اور گناہوں کے درمیان روک بنا دے اور ہم سے تیری نافرمانی سرزد نہ ہو۔اور ہمیں اطاعت کا وہ مقام عطا کر جس کی وجہ سے تو ہمیں جنت میں پہنچا دے اور اتنا یقین بخش جس سے دنیا کے مصائب تو ہم پر آسان کر دے۔اے میرے اللہ ! ہمیں اپنے کانوں، اپنی آنکھوں ، اور اپنی طاقتوں سے زندگی بھر صحیح صحیح فائدہ اٹھانے کی توفیق دے اور ہمیں اس بھلائی کا وارث بنا۔اور جو ہم پر ظلم کرے اس سے تو ہمارا انتقام لے۔اور جو ہم سے دشمنی رکھتا ہے اس کے برخلاف ہماری مددفرما۔اور دین میں کسی بھی ابتلاء کے آنے سے بچا۔اور ایسا کر کہ دنیا ہمارا سب سے بڑا غم اور فکر نہ ہو اور نہ ہی دنیا ہمارا مبلغ علم ہو۔( یعنی ہمارے علم کی پہنچ صرف دنیا تک ہی نہ رہے ) اور ایسے شخص کو ہم پر مسلط نہ کر جو ہم پر رحم نہ کرے اور مہربانی سے پیش نہ آئے۔(ترمذى كتاب الدعوات باب في جامع الدعوات) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ: ”حصول فضل کا اقرب طریق دعا ہے۔اور دعا کے کامل لوازمات یہ ہیں کہ اس میں رقت ہو ، اضطراب ہو اور گدازش ہو۔جو دعا عاجزی اضطراب اور شکستہ دلی سے بھری ہوئی ہو وہ خدا تعالیٰ کے فضل کو کھینچ لاتی ہے۔اور قبول ہو کر اصل مقصد تک پہنچاتی ہے۔مگر مشکل یہ ہے کہ یہ بھی خدا تعالیٰ کے فضل کے بغیر حاصل نہیں ہو سکتی۔اور پھر اس کا علاج یہی ہے کہ دعا کرتار ہے، خواہ کیسی ہی بے دلی اور بے ذوقی ہولیکن یہ سیر نہ ہو۔تکلف اور تصنع سے کرتا ہی رہے۔اصلی اور حقیقی دعا کے واسطے بھی دعا ہی کی ضرورت ہے۔بہت سے لوگ دعا کرتے ہیں اور ان کا دل سیر ہو جاتا ہے۔اور وہ کہ اٹھتے ہیں کہ کچھ نہیں بنتا۔مگر ہماری نصیحت یہ ہے کہ اس خاک پیزی میں ہی برکت ہے۔یعنی خاک چھاننے میں برکت ہے۔ایسی کوشش کرنے