خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 771
$2004 771 خطبات مسرور میں برکت ہے۔” کیونکہ آخر گوہر مقصود اسی سے نکل آتا ہے۔اور ایک دن آ جاتا ہے کہ جب اس کا وہ دل زبان کے ساتھ متفق ہو جاتا ہے۔اور پھر خود ہی وہ عاجزی اور رقت جو دعا کے لوازمات ہیں، پیدا ہو جاتے ہیں۔جو رات کو اٹھتا ہے خواہ کتنی ہی عدم حضوری اور بے صبری ہو لیکن اگر وہ اس حالت میں بھی دعا کرتا ہے کہ الہی دل تیرے ہی قبضہ اور تصرف میں ہے تو اس کو صاف کر دے اور عین قبض کی حالت میں اللہ تعالیٰ سے بسط چاہے تو اس قبض میں سے بسط نکل آئے گی اور رقت پیدا ہو جائے گی۔یعنی دل کی جو گھٹی ہوئی کیفیت ہے وہ کھل جائے گی اور دعا کرنے کی طرف توجہ پیدا ہو جائے گی۔اور یہی وہ وقت ہوتا ہے جو قبولیت کی گھڑی کہلاتا ہے۔وہ دیکھے گا کہ اس وقت روح آستانہ الوہیت پر بہتی ہے۔گویا ایک قطرہ ہے جو اوپر سے نیچے کی طرف گرتا ہے“۔(الحكم جلد نمبر 7 نمبر 31 مورخه 24 اگست 1903ء صفحه 3 پھر آپ فرماتے ہیں: ” وہ دعا جو معرفت کے بعد اور فضل کے ذریعہ سے پیدا ہوتی ہے وہ اور رنگ اور کیفیت رکھتی ہے۔وہ فنا کرنے والی چیز ہے۔وہ گداز کرنے والی آگ ہے۔وہ رحمت کو کھینچنے والی ایک مقناطیسی کشش ہے۔وہ موت ہے پر آخر کو زندہ کرتی ہے۔وہ ایک تند سیل ہے پر آخر کو کشتی بن جاتی ہے“۔(یعنی پانی کا طوفان ہے جو کشتی بن جاتا ہے جو بچانے والی ہے )۔”ہر ایک بگڑی ہوئی بات اس سے بن جاتی ہے۔اور ہر ایک زہر آخر اس سے تریاق ہو جاتا ہے۔مبارک وہ قیدی جو دعا کرتے ہیں تھکتے نہیں۔کیونکہ ایک دن رہائی پائیں گے۔مبارک وہ اندھے جو دعاؤں میں ست نہیں ہوتے کیونکہ ایک دن دیکھنے لگیں گے۔مبارک وہ جو قبروں میں پڑے ہوئے دعاؤں کے ساتھ خدا کی مدد چاہتے ہیں کیونکہ ایک دن قبروں سے باہر نکالے جائیں گے۔مبارک تم جبکہ دعا کرنے میں کبھی ماندہ نہیں ہوتے اور تمہاری روح دعا کے لئے پکھلتی اور تمہاری آنکھ آنسو بہاتی اور تمہارے سینے میں ایک آگ پیدا کر دیتی ہے اور تمہیں تنہائی کا ذوق اٹھانے کے لئے اندھیری کوٹھڑیوں اور سنسان جنگلوں میں لے جاتی ہے۔اور تمہیں بے تاب اور دیوانہ اور از خود رفتہ بنادیتی