خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 753 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 753

$2004 753 خطبات مسرور علیہ وسلم سے براہ راست سنی ہو۔ابوسلمہ بن عبد الرحمن نے کہا کہ ہاں مجھے سے میرے والد نے بیان کیا کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے رمضان کے روزے رکھنا تم پر فرض کئے اور میں نے تمہارے لئے اس کا قیام جاری کر دیا ہے۔پس جو کوئی ایمان کی حالت میں ثواب کی نیت سے اس میں روزے رکھے وہ گناہوں سے ایسے نکل جاتا ہے جیسے اس کی ماں نے اسے جنم دیا ہو ، یعنی بالکل معصوم بچے کی طرح۔(سنن نسائی۔کتاب الصیام باب ذکر اختلاف یحی بن ابی کثير و النضر بن شيبان فيه۔”حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ روزہ ایک ڈھال اور آگ سے بچانے والا ایک مضبوط قلعہ ہے۔“ (مسند احمد بن حنبل جلد 2 صفحه 402 مطبوعه (بيروت) یہ قلعہ تو ہے لیکن اس ڈھال کے پیچھے اور اس قلعہ کے اندر کب تک اس قلعے میں حفاظت ہوتی رہے گی، کب تک محفوظ رہو گے اس کی وضاحت ایک اور روایت میں کر دی کہ جب تک اس کو جھوٹ یا غیبت کے ذریعے سے پھاڑ نہیں دیتے۔تو رمضان میں روزوں کی جو برکتیں ہیں اسی وقت حاصل ہوں گی جب یہ چھوٹی چھوٹی برائیاں بھی جو بعض بظاہر چھوٹی لگ رہی ہوتی ہیں، آدمی معمولی سمجھ رہا ہوتا ہے ہر قسم کی برائیاں بھی ختم نہیں کرتے۔ان میں بہت بڑی برائی جو ہے جس کو آدمی محسوس نہیں کرتا وہ جھوٹ ہے۔اگر جھوٹ بول رہے ہو تو اس ڈھال کو پھاڑ دیتے ہو۔لوگوں کی غیبت کر رہے ہو چغلیاں کر رہے ہو، پیچھے بیٹھ کے ان کی باتیں کر رہے ہو تو یہ بھی تمہارے روزے کی ڈھال کو پھاڑنے والی ہیں۔تو روزہ اگر تمام لوازمات کے ساتھ رکھا جائے تو ڈھال بنے گا۔ورنہ دوسری جگہ فرمایا پھر تو یہ روزہ صرف بھوک اور پیاس ہی ہے جو آدمی برداشت کر رہا ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں روزے کو تمام شرائط کے ساتھ رکھنے کی توفیق عطا فرمائے اور خالصہ اللہ تعالیٰ کی خاطر روزے رکھنے والے ہوں نہ کہ دنیا کے دکھاوے کے لئے۔کوئی نفس کا بہانہ ہمارے روزے رکھنے میں حائل نہ ہو اور اس مہینے میں اپنی عبادتوں کو بھی زندہ کرنے والے ہوں۔اللہ تو فیق دے۔