خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 750 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 750

750 $2004 خطبات مسرور بھی عبادت کے لئے کھڑے ہونا ہے۔تبھی ان اجروں کے وارث بنیں گے، ان کو حاصل کرنے والے ہوں گے اور اس جنت میں داخل ہونے والے ہوں گے جس کا اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا ہے۔حضرت سلمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے شعبان کے آخری روز خطاب فرمایا اور فرمایا ( یہ اسی روایت میں مزید باتیں شامل کی ہوئی ہیں اور ان میں زائد باتیں یہ ہیں ) جو شخص کسی بھی اچھی خصلت کو رمضان میں اپنا تا ہے وہ اس شخص کی طرح ہو جاتا ہے جو اس کے علاوہ جملہ فرائض کو ادا کر چکا ہو۔اور جس شخص نے ایک فریضہ اس مقدس مہینے میں ادا کیا وہ اس شخص کی طرح ہوگا جس نے ستر فرائض رمضان کے علاوہ ادا کئے۔اور رمضان کا مہینہ صبر کرنے کا مہینہ ہے اور صبر کا اجر جنت ہے اور یہ مواساة اور اخوت کا مہینہ ہے۔اور یہ ایسا مہینہ ہے جس میں مومن کو برکت دی جاتی ہے یعنی بھائی چارے ، محبت، ہمدردی ، غم خواری کا مہینہ ہے۔تو صبر ہر لحاظ سے ہونا ضروری ہے۔یہ صبر کرنے کا مہینہ ہے۔تو صبر کس طرح ہوا۔روزہ رکھ کے ہم خوراک کے لحاظ سے بھی صبر کرتے ہیں۔نفسانی خواہشات کے لحاظ سے بھی صبر کرتے ہیں۔لوگوں کے رویوں پر خاموش رہنے کے لحاظ سے بھی صبر کرتے ہیں۔اپنے حق کے مارے جانے پر خاموش رہنے پر بھی صبر کرتے ہیں۔اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ لڑنا جھگڑنا نہیں ہے۔اور اس میں یہ حکم ہے کہ لوگوں سے ہمدردی، غمخواری اور درگز رکا سلوک کرنا ہے تو تبھی اس سے فائدہ اٹھایا جائے گا، تبھی اس سے برکتیں حاصل ہوں گی۔اور اس وجہ سے اس صبر اور ہمدردی کی وجہ سے ظلم پر خاموش رہنے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ جہاں روحانی ترقی عطا فرمائے گا وہاں فرمایا کہ دنیاوی رزق میں بھی برکت ڈالے گا۔جو اللہ تعالیٰ کی خاطر کوئی کام کرتا ہے اللہ تعالی ضرور خود اس کا کفیل ہو جاتا ہے۔حضرت ابو مسعود غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رمضان کے شروع ہونے کے بعد ایک روز آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ اگر لوگوں کو رمضان کی فضیلت کا علم ہوتا تو میری امت اس بات کی خواہش کرتی کہ سارا سال ہی رمضان ہو“۔اس پر بنو خزاعہ کے