خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 744
$2004 744 مسرور پھر آپ فرماتے ہیں: ﴿ وَعَلَى الَّذِيْنَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِيْن ایک دفعہ میرے دل میں آیا کہ یہ فدیہ کس لئے مقرر کیا گیا ہے؟ تو معلوم ہوا کہ توفیق کے واسطے ہے تا کہ روزہ کی توفیق اس سے حاصل ہو۔خدا تعالیٰ ہی کی ذات ہے جو تو فیق عطا کرتی ہے۔اور ہر شئے خدا تعالیٰ ہی سے طلب کرنی چاہئے۔خدا تعالیٰ تو قادر مطلق ہے وہ اگر چاہے تو ایک مدقوق کو بھی روزہ کی طاقت عطا کر سکتا ہے۔تو فدیہ سے یہی مقصود ہے کہ وہ طاقت حاصل ہو جائے اور یہ خدا تعالیٰ کے فضل سے ہوتا ہے۔پس میرے نزدیک خوب ہے کہ (انسان ) دعا کرے کہ الہی ! یہ تیرا مبارک مہینہ ہے اور میں اس سے محروم رہا جاتا ہوں اور کیا معلوم آئندہ سال زندہ رہوں یا نہ، یا ان فوت شدہ روزوں کو ادا کر سکوں یا نہ۔اور اُس سے توفیق طلب کرے تو مجھے یقین ہے کہ ایسے دل کو خدا طاقت بخش دے گا“۔(ملفوظات جلد دوم صفحه ٥٦٣ البدر ۱۲ دسمبر ۱۹۰۲ تو فرمایا جن کو روزہ رکھنے میں عارضی روکیں پیدا ہورہی ہیں اگر وہ فدیہ دیں تو اللہ تعالیٰ اس کی برکت سے ہی توفیق بھی دے سکتا ہے۔فدیہ بھی دیں اور ساتھ دعا بھی کریں۔پھر آپ فرماتے ہیں کہ : ” اصل بات یہ ہے کہ قرآن شریف کی رخصتوں پر عمل کرنا بھی تقویٰ ہے۔خدا تعالیٰ نے مسافر اور بیمار کو دوسرے وقت ( روزے) رکھنے کی اجازت اور رخصت دی ہے اس لئے اس حکم پر بھی تو عمل رکھنا چاہئے۔میں نے پڑھا ہے کہ اکثرا کا براس طرف گئے ہیں کہ اگر کوئی حالت سفر یا بیماری میں روزہ رکھتا ہے تو یہ معصیت ہے۔یعنی گناہ ہے کیونکہ غرض تو اللہ تعالیٰ کی رضا ہے، نہ اپنی مرضی۔اور اللہ تعالیٰ کی رضا فرمانبرداری میں ہے۔جو حکم وہ دے اس کی اطاعت کی جاوے اور اپنی طرف سے اس پر حاشیہ نہ چڑھایا جاوے۔یعنی اس کی تشریحیں نہ کی جائیں۔اس نے تو یہی حکم دیا ہے کہ فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَرِيْضًا أَوْ عَلَى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنْ أَيَّامٍ أُخَرَ (سورۃ البقرہ آیت 185)۔اس میں کوئی قید اور نہیں لگائی کہ ایسا سفر ہو یا ایسی بیماری ہو“ فرمایا کہ میں سفر کی حالت میں روزہ نہیں رکھتا اور ایسا ہی بیماری کی حالت میں۔چنانچہ