خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 743
$2004 743 خطبات مسرور بعض فطری اور ہنگامی مجبوریوں کی وجہ سے تمہیں یہ چھوٹ دے دی ہے کہ سال کے دوران جو چھٹے ہو ئے روزے ہوں وہ کسی اور وقت پورے کر لو۔اللہ تعالیٰ کہتا ہے کہ میں یہ چھوٹ تمہیں تمہاری اس کوشش کی قدر کرتے ہوئے دے رہا ہوں جو تم باقی دنوں میں اپنے آپ کو تکلیف میں ڈالتے ہوئے میرا قرب پانے کے لئے میری خاطر کر رہے ہو۔فرمایا کیونکہ یہ سب تمہارا عمل میری خاطر ہو رہا ہے اس لئے اگر تم عارضی طور پر بیمار ہو یا بعض سفروں اور مجبوری کی وجہ سے کافی روزے چھوٹ رہے ہیں اور مالی لحاظ سے اچھے بھی ہو تو فدیہ بھی دے دو یہ زائدہ نیکی ہے۔اور بعد میں سال کے دوران روزے بھی پورے کر لو۔اور جو مستقل بیمار ہیں یا عورتیں ہیں مثلاً دودھ پلانے والی ہیں یا جن کے پیدائش ہونے والی ہے وہ کیونکہ روزے نہیں رکھ سکتیں اس لئے ایسے مریضوں کے لئے اپنی حیثیت کے مطابق فدیہ دینا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک سوال کے جواب میں فرماتے ہیں کہ : ” صرف فدیہ تو شیخ فانی یا اس جیسوں کے واسطے ہو سکتا ہے جو روزہ کی طاقت کبھی بھی نہیں رکھتے۔ورنہ عوام کے واسطے جو صحت پاکے روزہ رکھنے کے قابل ہو جاتے ہیں۔صرف فدیہ کا خیال اباحت کا دروازہ کھول دیتا ہے۔(ملفوظات جلد پنجم صفحه ٣٢٢ - ٢٤ اکتوبر ١٩٠٧) 66 یعنی ایک ایسا اجازت کا رستہ کھل جائے گا اور ہر کوئی اپنی مرضی سے تشریح کرنی شروع کر دے گا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جو صرف کا لفظ استعمال کیا ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ جو بعد میں روزے کی طاقت رکھتے ہوں اگر وہ فدیہ دے دیں تو یہ زائد نیکی ہے۔بعد میں روزے بھی پورے کر لئے اور فدیہ بھی دے دیا۔اور جو رکھ ہی نہیں سکتے اور رکھنے کی طاقت نہیں رکھتے ان کے لئے فدیہ ہے۔کیونکہ اس بارے میں کہ فدیہ کس طرح ہے اس میں مختلف مفسرین نے مختلف تشــــريـحیں کی ہوئی ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ جو طاقت رکھتے ہیں وہ بہر حال فدیہ دے دیں اور جو عارضی مریض ہیں وہ بھی۔