خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 69 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 69

$2004 69 خطبات مسرور قریب اور دور کے تمام رشتہ دار آگئے ) اور پھر فرمایا کہ یتیموں کے ساتھ بھی احسان کرو اور مسکینوں کے ساتھ بھی اور جو ایسے ہمسایہ ہوں، جو قرابت والے بھی ہوں اور ایسے ہمسائے ہوں جو محض اجنبی ہوں اور ایسے رفیق بھی جو کسی کام میں شریک ہوں یا کسی سفر میں شریک ہوں یا نماز میں شریک ہوں یا علم دین حاصل کرنے میں شریک ہوں اور وہ لوگ جو مسافر ہیں اور وہ تمام جاندار جو تمہارے قبضہ میں ہیں سب کے ساتھ احسان کرو۔خدا ایسے شخص کو دوست نہیں رکھتا جو تکبر کرنے والا اور شیخی مارنے والا ہو، جو دوسروں پر رحم نہیں کرتا۔(چشمہ معرفت۔روحانی خزائن۔جلد۲۳۔صفحہ نمبر ۲۰۹،۲۰۸) بعض لوگ اپنے بڑے بھائیوں کا احترام نہیں کر رہے ہوتے۔حسن سلوک تو ایک طرف رہا ان سے بد تمیزی سے پیش آرہے ہوتے ہیں، ان کو عدالتوں میں گھسیٹ رہے ہوتے ہیں، ہر طرف سے ان کی عزت پر بٹہ لگانے کی کوشش کر رہے ہوتے ہیں تو ان لوگوں کو اس روایت سے سبق لینا چاہئے۔حضرت سعید بن عاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا: بڑے بھائی کا حق اپنے چھوٹے بھائیوں پر اس طرح کا ہے جس طرح والد کا حق اپنے بچوں پر۔یعنی بڑا بھائی چھوٹے بھائی کے لئے بمنزلہ باپ کے ہے اس لئے اس کا ادب واحترام بھی واجب ہے۔(مراسیل ابی داؤد باب في برالوالدین صفحه ۱۹۷) والد کے حقوق کا تو آپ گزشتہ خطبے میں سن چکے ہیں۔پھر اس طرح بڑے بھائیوں کے لئے بھی اس میں نصیحت ہے کہ چھوٹے بھائیوں سے وہ سلوک رکھیں جو ایک باپ کو اپنے بچوں سے ہوتا ہے۔اللہ کرے کہ ہر احمدی محبت کی فضا کو قائم کرنے والا ہو۔بعض دفعہ گھروں میں میاں بیوی کی چھوٹی چھوٹی باتوں پر تلخ کلامی ہو جاتی ہے پہنی ہو جاتی ہے۔مرد کو اللہ تعالیٰ نے زیادہ مضبوط اور طاقتور بنایا ہے اگر مرد خاموش ہو جائے تو شاید اسی فیصد سے زائد جھگڑے وہیں ختم ہو جائیں۔صرف ذہن میں یہ رکھنے کی بات ہے کہ میں نے حسن سلوک کرنا ہے اور صبر سے کام لینا ہے۔ہمارے آقا حضرت محمد مصطفی ﷺ نے اس بارہ میں ہمیں کیا اسوہ دکھایا۔روایت ہے کہ