خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 730
$2004 730 خطبات مسرور لئے تقریرہ بہت ہی صاف اور عام فہم ہونی چاہئے اور اوسط درجہ کے لوگ فرمایا کہ زیادہ تر یہ گروہ اس قابل ہوتا ہے کہ ان کو تبلیغ کی جاوے۔وہ بات کو سمجھ سکتے ہیں اور ان کے مزاج میں وہ تعلی اور تکبر اور نزاکت بھی نہیں ہوتی جو امراء کے مزاج میں ہوتی ہے۔اس لئے ان کو سمجھانا بہت مشکل نہیں ہوتا“۔(ملفوظات جلد دوم صفحه 161-162 الحكم 24 مارچ 1902 | حضرت خلیفہ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے جب حضرت قاضی محمدعبد اللہ صاحب کو لندن بھجوایا تو اسی اصول کے تحت یہ بھی نصیحت فرمائی کہ گاؤں کے لوگ حق کو مضبوطی سے قبول کیا کرتے ہیں۔آپ نے فرمایا لندن سے دور کسی چھوٹے سے گاؤں میں جا کر ر ہیں۔یعنی کچھ وقت گزاریں ، دعائیں کریں اور دعوت کریں اور پھر دیکھیں کہ دعوت الی اللہ کا کتنا اثر ہوتا ہے۔لیکن ساتھ یہ بھی نصیحت کر دی کہ یا درکھیں کہ یہ لوگ سختی بھی کریں گے لیکن سمجھیں گے بھی۔اس لئے سختی سے گھبرانا نہیں۔ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : ” جس قدر زور سے باطل حق کی مخالفت کرتا ہے اسی قدر حق کی قوت اور طاقت تیز ہوتی ہے۔یعنی جھوٹ سچ کی جتنا مخالفت کرتا ہے اتنی ہی سچ کی طاقت پیدا ہو جاتی ہے۔”زمینداروں میں بھی یہ بات مشہور ہے کہ جتنا جیٹھ ہاڑ تپتا ہے اسی قدر ساون میں بارش زیادہ ہوتی ہے۔یعنی جتنی زیادہ گرمی ہو اتنا بارش زیادہ آجاتی ہے، بارشوں کے موسم میں۔یہ ایک قدرتی نظارہ ہے۔حق کی جس قدر زور سے مخالفت ہو اسی قدر وہ چمکتا اور اپنی شوکت دکھاتا ہے۔ہم نے خود آزما کر دیکھا ہے۔جہاں جہاں ہماری نسبت زیادہ شور وغل ہوا ہے وہاں ایک جماعت تیار ہوگئی اور جہاں لوگ اس بات کو سن کر خاموش ہو جاتے ہیں وہاں زیادہ ترقی نہیں ہوتی “۔( ملفوظات جلد 3 صفحه 226 الحکم (24 اپریل (1903 آپ بھی ، جو لوگ باہر نکل سکتے ہیں باہر نکلیں ، دعائیں کرتے ہوئے یہاں کی جو چھوٹی جگہیں ہیں ان میں رابطے بڑھائیں۔اور ان لوگوں میں نسبتاً سادگی زیادہ ہوتی ہے۔یہاں بھی