خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 729
$2004 729 خطبات مسرور ہے۔فرمایا کہ ایک تحصیلدار تھا۔میں نے اس کو کچھ نصیحت کی۔وہ مجھ سے ٹھٹھا کرنے لگا۔“ مذاق کرنے لگا۔”میں نے دل میں کہا میں بھی تمہارا پیچھا نہیں چھوڑنے کا۔آخر با تیں کرتے کرتے اس پر وہ وقت آگیا کہ وہ یا تو مجھ پر تمسخر کر رہا تھا یا چیچنیں مار مار کر رونے لگا۔بعض اوقات سعید آدمی ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے شقی ہے۔یعنی بعضوں کی اچھی فطرت بھی ہوتی ہے لیکن لگتا اس طرح ہی ہے جس طرح یہ لوگ سخت دل کے ہیں۔یاد رکھو ہر قفل کے لئے ایک کلید ہے۔بات کے لئے بھی ایک چابی ہے۔وہ مناسب طرز ہے۔جس طرح دواؤں کی نسبت میں نے ابھی کہا ہے کہ کوئی کسی کے لئے مفید اور کوئی کسی کے لئے مفید ہے۔یہ پیرا میں نے لیا ہے اس سے پہلے دواؤں کا بیان چل رہا ہو گا فرماتے ہیں: ”ایسے ہی ہر ایک بات ایک خاص پیرائے میں خاص شخص کے لئے مفید ہوسکتی ہے۔یہ نہیں کہ سب سے یکساں بات کی جائے۔ہے۔بیان کرنے والے کو چاہئے کہ کسی کے برا کہنے کو برا نہ منائے بلکہ اپنا کام کئے جائے اور تھکے نہیں۔امراء کا مزاج بہت نازک ہوتا ہے اور وہ دنیا سے غافل بھی ہوتے ہیں۔بہت باتیں سن بھی نہیں سکتے۔انہیں کسی موقع پر کسی پیرائے میں نہایت نرمی سے نصیحت کرنا چاہئے۔( ملفوظات جلد پنجم صفحه 441 بدر (13 فروری (1908 پھر آپ نے فرمایا کہ : ” دنیا میں تین قسم کے آدمی ہوتے ہیں۔عوام، متوسط درجے کے امراء۔فرمایا کہ : ”عوام عموماً کم فہم ہوتے ہیں۔تھوڑی عقل والے ہوتے ہیں۔ان کی سمجھ موٹی ہوتی ہے۔اس لئے ان کو سمجھانا بہت ہی مشکل ہوتا ہے۔جو بالکل ان پڑھ ہو یہاں تو اللہ کے فضل سے آپ کو ایسے لوگ نہیں ملتے۔لیکن ہمارے ملکوں میں ایسے ہوتے ہیں۔امراء کے لئے سمجھانا بھی مشکل ہوتا ہے کیونکہ وہ نازک مزاج ہوتے ہیں اور جلد گھبرا جاتے ہیں اور ان کا تکبر اور تعلی اور بھی سد راہ ہوتی ہے۔اس لئے ان کے ساتھ گفتگو کرنے والے کو چاہئے کہ وہ ان کی طرز کے موافق ان سے کلام کرے۔یعنی مختصر مگر پورے مطلب کو ادا کرنے والی تقریر ہو۔فرمایا کہ عوام کو تبلیغ کرنے کے