خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 712
$2004 712 خطبات مسرور وقت ہو گیا کہتے ہوئے جگاتے اور قرآن مجید کی یہ آیت تلاوت فرماتے ﴿ وَأمُرُ أَهْلَكَ بِالصَّلوة وَاصْطَ عَلَيْهَا لَا تَتَلكَ رِزْقاً نحن اَز رُقَكَ وَالْعَاقبة للتقوى ﴾ (سورۃ طہ : 133) یعنی تو اپنے اہل کونماز کی تاکید کرتارہ اور تو خود بھی اس پر قائم رہ اور ہم تجھ سے رزق نہیں مانگتے۔کیونکہ ہم تجھے رزق دے رہے ہیں۔اور انجام تقویٰ کا ہی بہتر ہے۔(مؤطا امام مالک کتاب الصلوة باب ما جاء في صلوة الليل) اس طرح ہر احمدی کو اپنے بیوی بچوں کو نماز کی تلقین کرتے رہنا چاہئے ، اس کے لئے اٹھاتے رہنا چاہئے ،نمازوں پہ لاتے رہنا چاہئے۔جیسا کہ میں نے پہلے بھی کہا کہ اللہ تعالیٰ انعامات اس وقت تک نازل فرما تارہے گا جب تک کہ خود بھی اور اپنی نسلوں کو بھی عبادت کی طرف مائل رکھیں گے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام نمازوں کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرماتے ہیں کہ : ”یاد رکھنا چاہئے کہ نماز ہی وہ شے ہے جس سے سب مشکلات آسان ہو جاتے ہیں اور سب بلائیں دور ہوتی ہیں۔مگر نماز سے وہ نماز مراد نہیں جو عام لوگ رسم کے طور پر پڑھتے ہیں بلکہ وہ نماز مراد ہے جس سے انسان کا دل گداز ہو جاتا ہے اور آستانہ احدیت پر گر کر ایسامحو ہو جاتا ہے کہ پگھلنے لگتا ہے۔(ملفوظات جلد پنجم صفحه 402 الحكم 10 جنوري (1908 یا درکھو کہ یہ نماز ایسی چیز ہے کہ اس سے دنیا بھی سنور جاتی ہے اور دین بھی۔لیکن اکثر لوگ جو نماز پڑھتے ہیں تو وہ نماز ان پر لعنت بھیجتی ہے جیسے فرمایا اللہ تعالیٰ نے۔فَوَيْلٌ لِلْمُصَدِّيْنَ الَّذِيْنَ هُمْ عَنْ صَلَاتِهِمْ سَاهُونَ ﴾ (الماعون: (65) یعنی لعنت ہے ان نمازیوں پر جو نماز کی حقیقت سے ہی بے خبر ہوتے ہیں۔نماز تو وہ چیز ہے کہ انسان اس کے پڑھنے سے ہر ایک طرح کی بد عملی اور بے حیائی سے بچایا جاتا ہے۔مگر جیسے کہ میں پہلے بیان کر چکا ہوں اس طرح کی نماز پڑھنی انسان کے اپنے اختیار میں نہیں ہوتی۔اور یہ طریق خدا کی مدد اور استعانت کے بغیر حاصل نہیں ہو سکتا۔اور جب تک انسان دعاؤں میں نہ لگا رہے اس طرح کا خشوع اور خضوع پیدا نہیں ہوسکتا۔اس