خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 711 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 711

$2004 711 خطبات مسرور پھر ایک روایت ہے حضرت جریر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت ان شرائط پر کی کہ میں نماز قائم کروں گا ، زکوۃ ادا کروں گا ، ہر مسلمان کا خیر خواہ رہوں گا اور یہ کہ مشرکوں سے تعلقات نہ رکھوں گا۔( سنن نسائی كتاب البيعة - باب البيعة على فراق المشرك) اب یہ مشرکوں سے تعلقات نہ رکھنے کی شرط بھی اس لئے ہے کہ زیادہ دوستیاں ایسے لوگوں سے جن کو خدائے واحد پر یقین نہ ہو، کم علم والے میں، خدا سے دوری کا باعث بن سکتی ہیں۔ایسی باتیں اس کی عبادت سے دور لے جاسکتی ہیں۔خاص طور پر نو جوانوں کو اپنے ماحول کا جائزہ لینا چاہئے ، اپنے دوستوں کا جائزہ لینا چاہئے ، کہیں کوئی خاموشی سے غیر محسوس طریقے سے آپ کو اپنے زیر اثر تو نہیں کر رہا۔خدا کی عبادت کا جو مقصد ہے اس سے دور تو نہیں کر رہا۔اور آپ کا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت میں شامل ہونے کا جو مقصد ہے اس سے دور تو نہیں کر رہا۔وہ یہی مقصد ہے کہ اللہ تعالیٰ کے قریب لایا جائے۔ایک روایت میں آتا ہے حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا ہاتھ پکڑا اور فرمایا اے معاذ! اللہ کی قسم یقینا میں تجھ سے محبت رکھتا ہوں۔پھر آپ نے فرمایا اے معاذ! میں تجھے وصیت کرتا ہوں کہ تم ہر نماز کے بعد یہ دعا کرنا نہ بھولنا، اللحم اعتی علی ذکرک و شکرِک وَ حُسنِ عِبَادَ تک۔کہ اے اللہ تو مجھے تو فیق عطا کر کہ میں تیرا ذ کر ، تیرا شکر اور اچھے انداز میں تیری عبادت کر سکوں۔(سنن ابی داؤد۔کتاب الوتر۔باب في الاستغفار ) دیکھیں کیا پیارا انداز ہے اللہ تعالیٰ کی عبادت کی طرف توجہ دلانے کا۔اور پھر جب انسان خدا سے اس طرح دعا مانگ رہا ہو تو اللہ تعالیٰ اس کی عبادت کی توفیق بھی بڑھا دیتا ہے۔پھر زید بن اسلم اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عمر رات کو دیر تک عبادت کرتے یہاں تک کہ جب رات کا آخری وقت ہوتا تو اپنے اہل وعیال کو الصلوۃ الصلوۃ یعنی نماز کا